انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پناہ گزینوں کے عالمی دن پر تارکین وطن کے ساتھ یکجہتی کی اپیل

UNHCR کی بنیان پہنے ہوئے ایک عورت نارنجی رنگ کے ٹرپ پر بیٹھی ہے جس کے چاروں طرف UNHCR کے برانڈ والے ٹوٹ بیگز بھرے ہوئے ہیں۔
© UNHCR/Kamrul Hasan بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین خواتین ماحول دوست مصنوعات بنانے میں مہارت حاصل کر رہی ہیں۔

پناہ گزینوں کے عالمی دن پر تارکین وطن کے ساتھ یکجہتی کی اپیل

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ہائی کمشنر برہم صالح نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ اور مظالم سے جان بچا کر نقل مکانی پر مجبور 4 کروڑ 20 لاکھ مہاجرین کی مدد کے لیے مزید مضبوط و موثر تعاون فراہم کرے۔

20 جون کو منائے جانے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اپنی میزبان برادریوں میں کارکنوں، طلبہ، ہمسایوں، فنکاروں، کھلاڑیوں، کاروباری شخصیات اور رہنماؤں کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر انہیں موقع فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگیاں دوبارہ سنوارتے ہیں بلکہ اپنے نئے معاشروں کو بھی مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اپنے پیغام میں ان افراد اور ان کی میزبانی کرنے والی آبادیوں کے لیے مزید موثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور کشیدگی کے باعث نئے اور طویل المدتی تنازعات لاکھوں مردوخواتین اور بچوں کو پناہ لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ ہنگامہ خیز دور مہاجرین کے ساتھ یکجہتی کے نئے عزم اور ان کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

'مہاجر دائمی شناخت نہیں'

برہم صالح نے کہا ہے کہ اپنا گھر چھوڑ کر تحفظ کی تلاش میں نکلنا زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہوتا ہے اور ایام نوجوانی میں وہ خود عراق میں جبر و استبداد سے بچنے کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

اگرچہ کسی شخص کو مخصوص مدت کے لیے مہاجر کہا جا سکتا ہے لیکن مہاجر ہونا اس کی پوری زندگی کی شناخت نہیں بننا چاہیے۔ اس وقت لاکھوں مہاجرین ایسی صورت حال میں پھنسے ہیں جہاں وہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جو روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔

طویل نقل مکانی کے مسئلے کا حل

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اگرچہ ہنگامی حالات میں انسانی امداد جانیں بچانے کے لیے ناگزیر اہمیت رکھتی ہے لیکن بہت سے مہاجرین برس ہا برس اور بعض اوقات دہائیوں تک اپنے گھروں سے دور زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئندہ 10 برس میں ایسے مہاجرین کی تعداد میں 50 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا ہے جو طویل عرصہ سے مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک پر خاص توجہ دی جائے گی جو دنیا کے بیشتر مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔

یہ ہدف حاصل ہونے کی صورت میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو جائیں گی۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے نقل مکانی کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

تحفظ تک رسائی کا حق

امسال اس دن پر مہاجرین سے متعلق تاریخی کنونشن کی 75ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1951 میں طے پانے والے اس میثاق میں یہ اصول تسلیم کیا گیا تھا کہ جنگ یا ظلم و ستم کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہر شخص کو تحفظ اور پناہ تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

برہم صالح نے کہا ہے کہ اس وعدے کو برقرار رکھنا ہو گا کہ جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہوتا اس وقت تک کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔

'یو این ایچ سی آر' عالمی دن پر نوجوانوں کو مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حق پناہ کے دفاع کے لیے متحرک کر رہا ہے۔ اس حوالے سے چلائی جانے والی مہم کا مقصد مہاجرین سے متعلق غلط تصورات اور منفی رویوں کا توڑ اور یہ اجاگر کرنا ہے کہ تحفظ کی تلاش کا حق صرف جنگ یا تشدد سے فرار تک محدود نہیں۔