لبنان: اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی کی اطلاعات خوش آئند، یو این
اقوام متحدہ نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل ہی بلیو لائن کے اطراف دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کی واحد قابل عمل راہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود بہت سے بے گھر خاندانوں کی زندگیوں میں ابھی تک کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔ ان خاندانوں کے لیے نہ تو حالات اس قدر محفوظ ہوئے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور نہ ہی وہ موجودہ مقامات پر خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ فرانس اور برطانیہ کے وزرا برائے ترقیاتی امور نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار عمران رضا کے ساتھ آج صبح صیدون میں قائم ایک اجتماعی پناہ گاہ کا دورہ کیا۔
اس موقع پر پناہ گاہ کے منتظمین نے وفد کو بتایا کہ حالیہ معاہدے کے بعد جو خاندان ابتدا میں وہاں سے چلے گئے تھے ان میں بہت سے واپس آ چکے ہیں۔ ایک پناہ گاہ میں یہ اطلاع ملی کہ اس ہفتے کے آغاز میں روانہ ہونے والے تقریباً نصف خاندان آج صبح تک دوبارہ واپس آ چکے تھے جبکہ کئی دیگر خاندانوں نے بھی واپس آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے گزشتہ دنوں مغربی سیکٹر میں آٹھ امدادی کارروائیوں میں سہولت فراہم کی ہے۔ فورس نے اپنے زیرعمل علاقوں میں بے گھر افراد تک خوراک اور دیگر ضروری امداد پہنچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ شمالی علاقوں میں اجتماعی پناہ گاہوں سے باہر رہنے والے افراد کو بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
لبنانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی
یونیفیل نے بتایا ہے کہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے لبنان کی فضائی حدود کی 52 مرتبہ خلاف ورزی کی۔ اس دوران 217 میزائل اور گولے داغے گئے جن میں سے 188 اسرائیلی فوج اور 29 غیر ریاستی لبنانی عناصر کی جانب سے آئے جن کا تعلق غالباً حزب اللہ سے تھا۔
فورس کے مطابق، جمعرات کی رات 12 بجے سے شام 4 بجے تک صورت حال میں نمایاں شدت دیکھی گئی اور اس دوران 748 میزائل اور گولے داغے گئے جن میں سے 695 اسرائیلی فوج جبکہ 53 حزب اللہ یا اس سے منسلک غیر ریاستی عناصر کی جانب سے فائر کیے گئے۔ اسی عرصہ میں 49 مرتبہ لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے 51 فضائی حملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔
یونیفیل کے مطابق، اس کے دائرہ کار میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کے کام اور انصرامی کارروائیاں شامل ہیں۔