انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا 72 فیصد سود اور منافع کی نظر، انکٹاڈ

مختلف ممالک کی بین الاقوامی بینک نوٹوں اور کرنسیوں کا رنگین مجموعہ ایک سطح پر پھیلا ہوا ہے۔
Unsplash/Jason Leung ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے وقت اب بھی نمایاں رسک پریمیئم ادا کرتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا 72 فیصد سود اور منافع کی نظر، انکٹاڈ

از یسال احمر
معاشی ترقی

2024 میں ترقی پذیر ممالک کو بیرون ملک سے 1.5 کھرب ڈالر کے مالی وسائل حاصل ہوئے جن کا نصف حصص میں سرمایہ کاری کی صورت میں آیا جبکہ باقی نصف قرضوں پر مشتمل تھا۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ ان ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) حاصل کرنے کے لیے اب بھی سالانہ مزید 4.3 کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کی تازہ ترین رپورٹ بعنوان 'ترقیاتی مالیات: ترقی پذیر ممالک کو سرمائے کی فراہمی اور اس کی قیمت' میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ترقی پذیر دنیا میں ملکی سطح پر دستیاب مالی وسائل کا حجم تقریباً 11.9 کھرب ڈالر ہے، لیکن بیرونی مالیات اب بھی مقامی مالیاتی نظام کی شرائط اور لاگت پر غیر متناسب اثر ڈالتی ہیں۔

پائیدار ترقی کے لیے درکار وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ملکی اور غیرملکی دونوں ذرائع سے ہر سال تقریباً 230 ارب ڈالر اضافی قرض اور حصص میں 230 ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

غیرمساوی تقسیم 

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ بیرون ملک سے آنے والی مالیات ترقی پذیر ممالک کے لیے سرمائے کا ایک اہم ذریعہ ہیں، لیکن گزشتہ دہائی کے دوران سرمایہ کاری میں ان کا حصہ کم ہوا ہے۔ 2014 میں ترقی پذیر ممالک میں سرمائے کی تشکیل میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والے وسائل کا حصہ 20 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گیا۔

بیرون ملک سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی تقسیم بھی غیر مساوی ہے۔ 2014 سے 2024 کے دوران ایشیا اور الکاہل کے ممالک کو مجموعی مالیاتی رقوم کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ ملا جبکہ افریقہ کو صرف 10 فیصد حاصل ہوا۔

موصولہ مالیات کا ایک بڑا حصہ سرمایہ کاروں کو واپس بھی چلا جاتا ہے۔ 2024 میں تقریباً 1.07 کھرب ڈالر منافع، رائلٹی اور سود کی ادائیگیوں کی صورت میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو واپس منتقل ہوئے۔ یہ رقم اسی سال ترقی پذیر ممالک کو ملنے والی نئی مالیاتی رقوم کے 72 فیصد کے برابر تھی۔

ایک نارنجی قمیض پہنے ہوئے ایشیائی مرد کارکن کپڑے کی فیکٹری میں کپڑے کاٹنے کے لیے سلائی مشین استعمال کرتا ہے۔
©ILO /Nguyễn ViệtThanh گارمنٹس (ملبوسات) کی صنعت ترقی پذیر ممالک میں کارروبار اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔

قرض ادائیگی کی لاگت

اس رپورٹ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے وقت اب بھی نمایاں رسک پریمیئم ادا کرتے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ حکومتی آمدنی میں اضافے سے کہیں زیادہ تیز رفتار رہا ہے۔ 2014 سے 2024 کے دوران ترقی پذیر ممالک میں سود کی ادائیگیوں میں 102 فیصد اضافہ ہوا جبکہ حکومتی آمدنی صرف 39 فیصد بڑھی۔

ان حالات کے نتیجے میں ترقی پذیر دنیا کے بڑے حصے میں مالیاتی گنجائش محدود ہوئی ہے۔ 2018 سے 2024 کے درمیان 99 ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیوں کے باعث مالی گنجائش میں کمی کا سامنا رہا۔ ان ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 5.5 ارب افراد پر مشتمل ہے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2014 سے 2024 کے دوران بیرونی قرضوں کی سروسنگ لاگت میں اضافہ حصص میں سرمایہ کاری کی لاگت کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تیزی سے ہوا۔

قرضے مہنگے کیوں؟

رپورٹ کے مطابق، بیرونی قرضوں کی لاگت خارجی اور داخلی عوامل کے امتزاج سے متعین ہوتی ہے۔

خارجی عوامل میں ترقی یافتہ معیشتوں کی مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف جاپان جیسے اداروں کی جانب سے شرح سود میں اضافہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی رقوم ترقی یافتہ معیشتوں کی جانب منتقل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

اس معاملے میں عالمی سرمایہ کاروں کا رویہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار عموماً ترقی پذیر ممالک کے اثاثوں میں اپنی سرمایہ کاری کم کر دیتے ہیں جس سے رسک پریمیئم اور قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

شرح مبادلہ میں تبدیلیاں بھی ایک اہم عنصر ہیں۔ چونکہ بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ غیر ملکی کرنسی کی شکل میں ہوتا ہے اس لیے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ مقامی کرنسی میں قرضوں اور سودی ادائیگیوں کے بوجھ کو بڑھا دیتا ہے۔

رپورٹ موسمیاتی آفات کو بھی قرض کی لاگت میں اضافے کا ایک نیا اور بڑا سبب قرار دیتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی خطرات کو اب خودمختار قرضوں سے متعلق خدشات کے تخمینوں میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

داخلی عوامل میں کریڈٹ رسک، لیکویڈیٹی رسک، شرح مبادلہ کا خطرہ اور ادارہ جاتی صلاحیت شامل ہیں۔ مالی خسارہ، سیاسی عدم استحکام، محدود مالیاتی منڈیاں، اعدادوشمار کی شفافیت میں کمی اور معلوماتی خلا بھی قرض لینے کی لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

تنزانیہ میں تعمیراتی مزدوروں نے ایک دھاتی فریم ڈھانچے پر شمسی پینل لگائے۔
© UNDP/Tanzania سستے قرضوں سے 920 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی توانائی کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

سستا قرضہ اور بچت

قرض لینے کی بلند لاگت کے ترقیاتی اثرات واضح کرنے کے لیے اس رپورٹ میں 94 ترقی پذیر ممالک پر مبنی ایک فرضی منظرنامہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق،  اگر یہ ممالک ترقی یافتہ معیشتوں کے برابر اوسط شرح پر قرض حاصل کر سکیں تو وہ مجموعی طور پر ہر سال تقریباً 500 ارب ڈالر کی بچت کر سکتے ہیں۔ 

اس بچت سے تین لاکھ 75 ہزار سکول تعمیر کیے جا سکتے ہیں، بنیادی صحت کے 13 لاکھ مراکز کا قیام ممکن ہو سکتا ہے، 1.6 ارب بچوں کو کم از کم غذائی تنوع پر مبنی خوراک فراہم کی جا سکتی ہے یا 920 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی توانائی کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2025 میں خودمختار بانڈز کی مالیت 164 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی تاہم ان کی مدت 2015 سے 2021 کے دوران 17 سال کی اوسط سے کم ہو کر 2025 میں 9.5 فیصد سالانہ رہ گئی جس سے قرضوں کی تجدید کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ قرضے اب بھی متعدد ترقی پذیر ممالک کے لیے سرمایے کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہیں جبکہ 2024 میں بیرونی قرضوں پر سود کی اوسط شرح 4.9 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

رپورٹ میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی اور کثیرالفریقی سطح پر مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قرضوں کے بہتر انتظام، اعدادوشمار میں شفافیت، رعایتی مالیات میں اضافہ، قرضوں کی تنظیم نو کے طریقہ کار کو بہتر بنانا اور قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم جیسے اقدامات کے ذریعے باہمی تجربات سے استفادہ شامل ہے۔

'انکٹاڈ' کا کہنا ہے کہ سرمائے کی لاگت میں کمی اور کم قیمت، طویل المدتی مالی وسائل تک رسائی کو بہتر بنانا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر اہمیت رکھتا ہے۔