انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن میں قیام امن اور بھوک کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

یمن کے لہج گورنریٹ میں اٹیرا پناہ گزین کیمپ میں ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ چل رہی ہیں۔
© UNICEF/Ebrahim Suhail یمن میں کئی سالوں سے جاری خانہ جنگی میں لاکھوں لوگ بے گھری پر مجبور ہیں۔

یمن میں قیام امن اور بھوک کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ یمن میں بھوک کے بڑھتے بحران کو روکنے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ملک کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے کونسل کے ارکان کو ملک کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ 2022 میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن تنازع تاحال حل طلب ہے اور اس غیر یقینی صورت حال کا خمیازہ یمنی عوام بھگت رہے ہیں۔

Tweet URL

موجودہ حالات میں وسائل کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے، تقسیم بڑھ رہی ہے اور معاشرہ عسکریت پسندی کا شکار ہو رہا ہے یہاں تک کہ طلبہ اور اساتذہ بھی محض معاشی بقا کی خاطر مسلح گروہوں میں شامل ہونے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک یہ تنازع مستقل طور پر حل نہیں ہوتا اس وقت تک مزید عدم استحکام کا خطرہ برقرار رہے گا اور اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو اس کے اثرات یمن سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تنازع کے فریقین کو چاہیے کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے حالیہ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایسے سیاسی عمل کی بحالی کے لیے پیش رفت کریں جس سے پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

اقوام متحدہ کے عملے کی رہائی کا مطالبہ

خصوصی نمائندے نے انصار اللہ (حوثیوں) کی ناجائز حراست میں اقوام متحدہ کے 73 اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا جن میں سے بیشتر 2024 سے قید کاٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے واضح کیا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، ان سے متاثرہ خاندانوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کی ان لاکھوں ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانے کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے جو مدد کے محتاج ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے۔

22 لاکھ بچوں میں غذائی قلت

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے زیرانتظام علاقوں میں تقریباً 50 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اگر امداد میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

پانچ سال سے کم عمر کے 22 لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اگر انہیں مسلسل مدد فراہم نہ کی گئی تو ان میں سے بیشتر زندگی بھر اس کے منفی اثرات برداشت کریں گے۔

ٹام فلیچر کا کہنا تھا کہ ضروریات بڑھ رہی ہیں لیکن امداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ مالی وسائل میں ہر کٹوتی کی ایک انسانی قیمت ہوتی ہے، کسی کا ایک وقت کا کھانا چھن جاتا ہے، کسی بچے کا علاج نہیں ہو پاتا اور کوئی پوری آبادی ضروری مدد سے محروم ہو جاتی ہے۔

سلامتی کونسل سے تین مطالبات

ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل سے تین ضروری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ: 

  • زیر حراست امدادی کارکنوں کی رہائی یقینی بنائی جائے۔
  • امدادی کارروائیوں کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ رواں سال ملک کے لیے درکار امدادی وسائل کا 15 فیصد سے بھی کم موصول ہوا ہے جس کے باعث 'اوچا' کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑی ہیں اور بہت سے ضرورت مند افراد امداد سے محروم ہو رہے ہیں۔
  • امن کے قیام کی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انسانی امداد عارضی طور پر حالات کو سنبھال سکتی ہے لیکن بحران کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ امداد لوگوں کو زندہ تو رکھ سکتی ہے، مگر انہیں وہ مستقبل نہیں دے سکتی جس کے وہ حق دار ہیں۔ یہ کام تنازع کے سیاسی حل کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے جسے یمن کے عوام طے کریں اور جسے سلامتی کونسل کی بھی حمایت حاصل ہو۔