انسانی کہانیاں عالمی تناظر

چوبیس لاکھ پناہ گزین میزبان ممالک میں عدم تحفظ کا شکار، رپورٹ

بچوں سمیت پناہ گزینوں اور پناہ گزینوں کے ایک گروپ نے برونڈی میں گھاس کے میدان میں گھومتے ہوئے اپنے سامان اپنے سر اور پیٹھ پر اٹھائے ہوئے ڈیموکریٹک جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں تشدد سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔
© UNHCR/Bernard Ntwari کانگو کی خانہ جنگی سے تنگ ہزاروں لوگ ہمسایہ ملک برونڈی کی سرحد عبور کر رہے ہیں۔

چوبیس لاکھ پناہ گزین میزبان ممالک میں عدم تحفظ کا شکار، رپورٹ

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ 2027 میں 24 لاکھ مہاجرین اور پناہ گزینوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں میزبان ممالک میں تحفظ کا خطرہ ہو گا اور وہ محفوظ طریقے سے اپنے آبائی ممالک میں واپس جانے کے قابل نہیں ہوں گے۔

اگرچہ یہ تعداد 2026 کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہے اور 2025 کے بعد مسلسل کمی کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے تاہم اس کمی کی وجہ بعض مخصوص حالات و واقعات ہیں جن میں کچھ مثبت ہیں اور دیگر کو تشویشناک کہا جا سکتا ہے۔ 

'یو این ایچ سی آر' میں پناہ گزینوں کے مسائل کا پائیدار حل نکالنے اور انہیں مدد و تحفظ کی فراہمی سے متعلق شعبے کی سربراہ جیکی کیگان نے کہا ہے کہ دسمبر 2024 میں شام کی حکومت تبدیل ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس طرح، بعض شامی مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کی ضرورت میں کمی آئی ہے۔ 

اس سے برعکس، ایران اور پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں اپنے ملک کو واپسی ایسے حالات میں ہو رہی ہے جو مکمل طور پر رضاکارانہ یا سازگار نہیں سمجھے جا سکتے۔

ایران سے جلاوطن افراد ہرات، افغانستان میں اسلام قلعہ بارڈر پر اپنے سامان کے ساتھ ایک کارٹ پر پہنچ رہے ہیں، ان کے ساتھ CHA اور UNHCR اہلکار بھی ہیں۔
© UNHCR/Oxygen Empire Media Production ایران سے بے دخل کیے گئے افغان مہاجر اپنے ملک کی سرحد پر پہنچ رہے ہیں۔

37 ہزار مہاجرین کی آبادکاری

افغان مہاجرین دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت مند پناہ گزین گروہ ہیں۔ ان کے بعد جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور روہنگیا مہاجرین کا نمبر آتا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی اکثریت بنگلہ دیش میں مقیم ہے، جہاں وہ شدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس بہتری کے متبادل راستے نہایت محدود ہیں۔

علاقائی اعتبار سے آبادکاری کی سب سے زیادہ ضرورت مشرقی و جنوبی افریقہ میں ہے جس کے بعد ایشیا، الکاہل اور مغربی و وسطی افریقی خطے کا نمبر آتا ہے۔

گزشتہ سال 'یو این ایچ سی آر' کی معاونت سے تقریباً 37 ہزار مہاجرین نئے ممالک میں آباد کیے گئے جو 2024 میں آباد کیے جانے والے ایک لاکھ 16 ہزار سے زیادہ مہاجرین کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

مہاجر مخالف پالیسیاں

2022 میں عالمی برادری نے 2027 تک آبادکاری کے ایک لاکھ 30 ہزار مواقع فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن مختلف ممالک میں کوٹوں میں کمی کے باعث اب اس ہدف کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے بعض میزبان ممالک کی پالیسیاں اس کی بڑی وجہ ہیں جن کے نتیجے میں ان کے ملک میں داخلے عارضی پابندیاں، کڑی شرائط اور پناہ کے لیے بڑی تعداد میں آنے والی درخواستیں ہیں۔ 

بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک آبادکاری کے پروگراموں میں توسیع کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اس وقت 68 فیصد مہاجرین اور پناہ گزین کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں مقیم ہیں۔ 

امسال 1951 کے مہاجرین سے متعلق کنونشن کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور ایسے وقت مہاجرین کے تحفظ اور ان کے مسائل کا پائیدار حل نکالنے کے عزم کی تجدید کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

وینزویلا کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا ایک گروپ، جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں، رورائیما، برازیل میں ایک کچی سڑک پر چل رہے ہیں، آپریشن اکولہڈا انسانی امداد کے ایک حصے کے طور پر۔
© IOM/Gema Cortes ایک خاندان پیدل چل کر وینزویلا سے برازیل کی سرحد عبور کر رہا ہے۔

قابل عمل ہدف

جیکی کیگان کا کہنا ہے کہ آبادکاری کے مواقع میں اضافہ نہ صرف فوری ضرورت ہے بلکہ قابل عمل ہدف بھی ہے۔ مہاجرین کی آبادکاری کوئی خیرات نہیں بلکہ ایک دیرپا حل ہے جو آئندہ نسلوں کے لیے جبری نقل مکانی کے سلسلے کا خاتمہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ 

نئے ممالک میں آباد ہونے والے مہاجرین روزگار، کاروبار اور دیگر شعبوں کے ذریعے اپنی نئی برادریوں میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں جبکہ اپنے آبائی یا میزبان ممالک میں موجود خاندانوں کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے جو مہاجرین کی آبادکاری میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے دوسروں کے لیے مثال قائم کر رہے ہیں۔

سال 2027 میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری پر یو این ایچ سی آر کی مکمل رپورٹ پڑھیے