دنیا میں نصف بچے کم از کم تین متراکب موسمیاتی خطرات سے دوچار
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کے باعث دنیا کے نصف بچوں کی صحت، تعلیم اور بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ کرہ ارض پر ہر بچہ کم از کم ایک موسمیاتی خطرے کا سامنا کر رہا ہے اور 40 لاکھ سے زیادہ بچے بیک وقت چھ مختلف خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو لاحق موسمیاتی خطرات سے متعلق یونیسف کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ساحلی سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ، شدید گرمی اور اس کے کڑے ادوار، دریائی سیلاب، گردباد اور سمندری طوفانوں کی صورت میں آٹھ بڑے خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہ لائی گئی تو موسمیاتی خطرات مزید بڑھیں گے اور شدت اختیار کریں گے جس سے حکومتی وسائل اور نظام پر دباؤ بھی بڑھ جائے گا اور بچوں کی فلاح و بہبود کو مزید خطرات لاحق ہوں گے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ سخت گرمی کی لہریں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور سیلاب کے اثرات بچوں کی زندگیوں کو درہم برہم کر رہے ہیں۔ آج نصف بچوں کو کم از کم تین ایسے موسمیاتی خطرات کا سامنا جو ان کے روزمرہ معمولات پر کڑے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
موسمیاتی خطرات کا امتزاج
رپورٹ کے مطابق، بیک وقت خشک سالی، شدید گرمی اور اس کے کڑے ادوار بچوں کو لاحق عام خطرہ ہیں۔ 29 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ بچے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں یہ تینوں خطرات ایک ساتھ موجود ہیں۔ خشک سالی، شدید گرمی اور سمندری طوفانوں کا امتزاج دوسرا عام خطرہ ہے جس سے 11 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔
افریقی خطہ ساہل میں 40 لاکھ سے زیادہ بچوں کو بیک وقت شدید گرمی، اس کے کڑے ادوار اور گرد کے طوفانوں کا سامنا ہے۔ ایشیا کے کئی ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش، میانمار اور پاکستان میں بچوں کو لاحق موسمیاتی خطرات اور ان کی شدت دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
امیر ممالک بھی ان موسمیاتی دھچکوں سے محفوظ نہیں۔ اٹلی میں 60 لاکھ سے زیادہ بچے باقاعدگی سے شدید گرمی کے ادوار اور خشک سالی کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم یہ ملک اس بات کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری بچوں کو درپیش بعض خطرات میں کمی لا سکتی ہے۔
فضائی آلودگی کا خطرہ
رپورٹ میں آٹھ بنیادی موسمیاتی خطرات کے علاوہ فضائی آلودگی اور ملیریا کے پھیلاؤ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں عوامل موسمیاتی تبدیلی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ فضائی آلودگی دنیا کے ہر بچے کو متاثر کر رہی ہے جبکہ ایک ارب بچے ملیریا کے خطرے سے دوچار ہیں جو پہلے سے موجود موسمیاتی خطرات میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔
رپورٹ ایک ایسا تجزیاتی طریقہ کار بھی پیش کرتی ہے جس کے ذریعے بچوں کو درپیش مختلف خطرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ خواہ کسی ایک موسمیاتی خطرے کا جائزہ لینا ہو یا متعدد خطرات اور مختلف شعبوں میں بچوں کو درپیش مسائل کا تجزیہ کرنا ہو، اس طریقہ کار کو مختلف سطحوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر موسمیاتی خطرات اور بنیادی کمزوریوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ جیسے خشکی میں گھرے اور کمزور ممالک کے بچے ایک طرف متعدد موسمیاتی خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور دوسری جانب بنیادی خدمات تک ان کی رسائی محدود ہے جس کے باعث ان کے لیے حالات سے نمٹنا اور بحالی کا حصول کہیں زیادہ دشوار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح، ہیٹی سے لے کر وانوآتو تک جزائر پر مشتمل 24 چھوٹے ترقی پذیر ممالک میں تمام بچے سمندری طوفانوں کے خطرے سے دوچار ہیں جو پورے جزائر کو بیک وقت متاثر کر کے بنیادی خدمات کے نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔
یونیسف کی سفارشات
یونیسف نے بچوں کے حقوق کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے اور بدلتے ماحولیاتی حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے حکومتوں، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
- گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے موثر اور جرات مندانہ اقدامات کیے جائیں، سائنسی شواہد کی روشنی میں معدنی ایندھن کے استعمال کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے اور قابل تجدید توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔
- ایسی جامع پالیسیاں اختیار کی جائیں جو بچوں اور ان کے لیے ضروری خدمات کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنائیں۔ اس میں ملکی سطح پر موافقتی منصوبے، آفات سے نمٹنے کی تیاری، محفوظ اور ماحول دوست تعلیمی ادارے، موسمیاتی اعتبار سے مضبوط طبی مراکز، غذائی تحفظ، آفات سے بروقت آگاہی کے نظام، پانی و صفائی کا بہتر انتظام اور ہنگامی حالات میں فعال سماجی تحفظ کے پروگرام شامل ہیں۔
- موسمیاتی تعلیم، آگاہی، علم اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کی جائے اور فیصلہ سازوں اور ماہرین کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کے اظہار رائے، شمولیت اور شراکت کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔
کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ یہ تجزیہ حکومتوں اور پالیسی سازوں کو بہتر منصوبہ بندی اور موثر سرمایہ کاری میں مدد دے سکتا ہے۔ جب بچوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت اور تعلیم کے نظام مضبوط بنائے جاتے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ استحکام پاتا ہے تو بچے ناصرف موجودہ موسمیاتی خطرات سے تحفظ حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا مستقبل بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔