غزہ: اسرائیلی ’پیلی لائین‘ کی توسیع، درجنوں فلسطینی خاندان بے گھر
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ غزہ میں فضائی حملے، گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات جاری ہیں جن کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بدھ کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک سکول کے احاطے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا جو بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ اسی روز غزہ شہر کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فوج نے مزید جگہوں پر کنکریٹ کے زرد بلاک نصب کیے اور 'زرد لکیر' کو مزید مغرب کی جانب بڑھا دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے درجنوں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ لکیر اکتوبر 2015 میں قائم کی گئی تھی جو غزہ کی پٹی کے اندر اس علاقے کی حد بندی کرتی ہے جہاں اسرائیلی افواج نے رسائی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان زرد بلاکس کی تنصیب کے ذریعے اس علاقے کو مزید وسیع کیا جاتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ بعض مواقع پر اسرائیلی افواج نے صرف اس لکیر کے قریب جانے پر بھی فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔
غیریقینی اور عدم تحفظ
اوچا کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے اختتام پر علاقے میں لوگوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور غیر محفوظ صورتحال انہیں ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے۔
امدادی اداروں نے اطلاع دی ہے کہ حالیہ ایام میں بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان اپنے خیمے اور دیگر ضروری سامان بھی ساتھ نہ لے جا سکے۔ ان میں سے بعض نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں عارضی پناہ لے رکھی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کے لیے امدادی ٹیموں نے اقوام متحدہ کے زیرانتظام مشترکہ اقدامات کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے جس کا مقصد ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد کو تیزی سے امداد فراہم کرنا ہے۔
امدادی سامان پر پابندیاں
اوچا کے مطابق، کیریم شالوم کا سرحدی راستہ اس وقت منظور شدہ امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل کے لیے واحد فعال گزرگاہ ہے۔ ہفتے کے اختتام پر تعمیراتی کاموں کے باعث اس راستے پر ٹریفک جام ہونے کے نتیجے میں نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
غزہ میں درکار کئی ضروری اشیا پر اسرائیل کی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں جن میں جنریٹر اور مختلف مشینوں کے فاضل پرزے بھی شامل ہیں۔ ادارے نے کہا کہ حالیہ مذاکرات کے بعد اسرائیلی حکام نے بعض اشیا پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں جن میں بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص کے لیے درکار اہم سامان بھی شامل ہے۔