یوکرین: کیئو پر روسی حملے میں شہری ہلاکتیں اور ثقافتی ورثہ کا نقصان
یوکرین کے دارالحکومت کیئو اور گنجان آباد شہر خارکیئو پر گزشتہ رات روس کے حملوں میں کئی شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے جبکہ نمایاں تاریخی و ثقافتی ورثے کو بھی ان حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار میتھیاس شمل نے کہا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں دونوں شہروں میں متعدد رہائشی عمارتوں، سکولوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دی گئی کیئو پیچرسک لاورا خانقاہ بھی حملوں کی زد میں آئی جس کا شمار ملک کی اہم ترین مذہبی و ثقافتی یادگاروں میں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، خارکیئو میں ایک آرٹ میوزیم بھی حملوں سے متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے بھی اس نقصان کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔
گیارہویں صدی میں تعمیر ہونے والی کیئو۔پیچرسک لاورا خانقاہ کیئو کے تاریخی ثقافتی مرکز میں واقع ہے۔ اس مقام پر سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل اور اس سے منسلک تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ یونیسکو کے مطابق، حملے سے خانقاہ میں واقع ڈورمیشن کیتھیڈرل کے داخلی و خارجی حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔
میتھیاس شمل نے یاد دلایا کہ ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون ثقافتی اور مذہبی مقامات کو خصوصی تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ ان پر حملے مقامی آبادی کو اس کے مشترکہ ثقافتی ورثے اور احساس وابستگی سے محروم کر دیتے ہیں۔
امدادی کارکنوں کی ہلاکتیں
رابطہ کار نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کے لیے یہ رات فضائی حملوں کے سائرن اور دھماکوں کی ہولناک آوازوں کو سنتے گزری۔ حملوں کی یہ لہر یوکرین میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان میں مسلسل اضافے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خارکیئو میں ایک حملے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکار ایک ثانوی حملے میں ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ رات بھر اور ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت کے مختلف علاقوں اور محاذ جنگ کے قریب متعدد شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جانی و مالی نقصان سے بڑھ کر، یوکرین کی تاریخ اور ثقافت سے جڑی جگہوں پر حملے ملک کی تاریخ، شناخت اور قومی روح پر حملے کے مترادف ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر طرح کے جنگی حالات میں شہریوں، بشمول امدادی کارکنوں، اور بنیادی شہری ڈھانچے کا تحفظ لازمی ہے۔