وبائی امراض پر عالمی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کا مطالبہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے دنیا بھر کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیاریاں یقینی بنانے کے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دیں۔
دونوں شخصیات کی جانب سے عالمی رہنماؤں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 جیسی کسی تباہ کن وبا کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنا انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس عالمی وبا کے نتیجے میں تقریباً دو کروڑ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ عالمی معیشت کو 13 کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
خط میں یاد دلایا گیا ہے کہ 2020 میں کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تھے، بے شمار خاندان اپنے عزیزوں سے محروم ہو گئے اور دنیا بھر میں نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں جو غیر معمولی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی اجتماعی صدمے نے دنیا بھر کے ممالک کو یہ عہد کرنے پر آمادہ کیا کہ آئندہ وباؤں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اور موثر تیاری کی جائے گی جس کے لیے ایک عالمی معاہدہ زیرغور ہے۔
معاہدے کا نامکمل ضمیمہ
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے دنیا بھر کے ممالک نے 'ڈبلیو ایچ او' کے 'وبائی معاہدے' کی منظوری دے کر اہم پیش رفت کی تھی اور اس کے تحت وباؤں کی روک تھام، ان پر قابو پانے کی تیاری اور دیگر ضروری اقدامات کے لیے موثر تعاون کا عہد کیا گیا تاہم، ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
معاہدے کا ایک اہم جزو، یعنی جرثوموں تک رسائی اور ان کے حوالے سے معلومات کے تبادلے سے متعلق ضمیمہ تاحال نامکمل ہے۔ اس ضمیمے کے بغیر وبائی معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ نہیں ہو سکتا جس کے باعث اس کا بنیادی مقصد ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔
اسے حتمی شکل دینے میں کئی پیچیدہ مسائل درپیش ہیں جن میں خاص طور پر یہ طے کرنا بھی شامل ہے کہ مشترکہ طور پر فراہم کیے گئے جرثوموں سے حاصل ہونے والے فوائد منصفانہ انداز میں کیسے تقسیم کیے جائیں اور نگرانی کا ایسا نظام کیسے قائم کیا جائے جو انصاف کو یقینی بنائے۔
یہی وہ سوالات تھے جو ماضی میں حل نہ ہو سکے اور جن کی وجہ سے کووڈ-19 کے دوران مسائل نے جنم لیا۔ مذاکرات کار 6 تا 17 جولائی اس معاملے پر دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ ان مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔
عالمی رہنماؤں سے تین مطالبات
خط میں عالمی رہنماؤں کے سامنے تین بنیادی مطالبات رکھے گئے ہیں:
1۔ اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی عزم
عالمی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اس ضمیمے کی تکمیل کو ترجیح دیں اور مذاکرات کاروں کو جرات مندانہ اتفاق رائے پیدا کرنے کا اختیار فراہم کریں۔
یہ معاہدہ کسی ملک کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرتا اور نہ ہی 'ڈبلیو ایچ او' کو لاک ڈاؤن یا لازمی ویکسینیشن جیسے اقدامات نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ایسے تمام فیصلے رکن ممالک کے اختیار میں ہی رہیں گے۔
2۔ مساوات اور انصاف
جرثوموں تک رسائی اور ان سے متعلق معلومات کے تبادلے کا نظام انصاف اور برابری کے اصول پر قائم ہے۔ جو ممالک خطرناک جراثیموں کے بارے میں معلومات بروقت فراہم کریں انہیں یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ ان معلومات کی بنیاد پر تیار ہونے والی ویکسین اور علاج بھی ان کی آبادی تک پہنچیں گے۔
وباؤں کی بروقت روک تھام ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے کیونکہ ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کو قابو کر کے انسانی زندگیوں اور وسائل دونوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
3۔ فوری اقدامات کی ضرورت
سائنس دانوں کے مطابق، آئندہ 10 برس میں ایک اور عالمی وبا پھوٹنے کا 25 فیصد امکان موجود ہے۔ ماحولیاتی اور سماجی تبدیلیاں دنیا بھر میں نئی بیماریوں کے ظہور کے امکانات بڑھا رہی ہیں جبکہ بائیوٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی حادثاتی یا دانستہ طور پر خطرناک جراثیموں کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔
خط میں زور دیا گیا ہے کہ 17 جولائی کو معاہدے کی تکمیل کے لیے حتمی تاریخ سمجھا جائے تاکہ یہ اہم معاملہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔