امریکہ ایران مفاہمت: یو این کا امدادی راہداری کھولنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک امدادی راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس آبی گزرگاہ سے خوراک کی ترسیل بحال ہو اور دنیا کو ممکنہ غذائی بحران سے بچایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے جنیوا میں کونسل برائے انسانی حقوق سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں آبنائے سے تجارت کی روانی متاثر ہونے اور امریکہ کی بحری ناکہ بندی کے باعث توانائی کی ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس صورتحال نے ہوابازی کے شعبے کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور انسانی امداد کی فراہمی محدود ہو جانے کے باعث خطے اور اس سے پرے وسیع تر انسانی بحران جنم لے چکا ہے جبکہ کھاد کی قلت بھی حالات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
انہوں نے معاشی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو دنیا کی بعض انتہائی کمزور معیشتیں شدید انتشار کا شکار ہو سکتی ہیں جس سے کروڑوں افراد غربت اور بھوک کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم
اس سے قبل اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ لڑائی کا خاتمہ اور مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔
انہوں نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نازک مرحلے پر فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور جنگ بندی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرکے اسے ایک جامع امن معاہدے کی شکل دینی چاہیے۔
عالمی بحری ادارے (آئی ایم او) نے جنگ بندی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت بحری جہازوں، ان کے عملے اور آزادانہ جہاز رانی کے بنیادی اصول کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
غذائی بحران روکنے کی ضرورت
ایوا ڈیبو نے کویت، عمان، قطر، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر ایرانی حملوں کے اثرات پر کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں خصوصاً عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کو متوقع عالمی غذائی بحران روکنے کے لیے درکار وسائل مہیا کیے جانا چاہئیں۔
اس موقع پر جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں متحدہ عرب امارت کے مستقل نمائندے جمال المشراق نے امید ظاہر کی کہ مشرق وسطیٰ کے بحران پر جاری مذاکرات حملوں کے خاتمے کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 28 فروری سے اب تک ان کے ملک کو تین ہزار سے زیادہ بیلسٹک و کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ایران کے سفیر علی بحرینی نے اس بحث کے انعقاد پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ایران نے عالمی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا جبکہ ایرانی عوام اندھا دھند فضائی بمباری کا سامنا کر رہے تھے۔ اگرچہ جنگ بندی میں کئی خامیاں تھیں اور بعد میں بھی مشکلات پیش آئیں لیکن ایران نے خطے کے استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اسے قبول کیا ہے۔