اوجھل بحران: یمنی خواتین خانہ جنگی اور امدادی کٹوتیوں سے بری طرح متاثر
یمن کو دنیا کے ایک بہت بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے جہاں دو تہائی آبادی یا 2 کروڑ 20 لاکھ افراد امداد کے محتاج ہیں جن میں نصف تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جنسی و تولیدی صحت (یو این ایف پی اے) کے نمائندے فرانسسکو گوالتیری نے یمن کی صورتحال کو فراموش کردہ بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غذائی قلت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ جب کوئی حاملہ خاتون خود غذائی قلت کا شکار ہو تو اس کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کی نشوونما اور صحت کو انتہائی سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
فرانسسکو گوالتیری نیویارک میں'یو این ایف پی اے'کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں میں شریک ہیں جہاں وہ تنازعات سے متاثرہ ممالک میں ادارے کے نمائندے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اس موع پر انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تقریباً 65 ہزار حاملہ خواتین کو حمل اور زچگی کے دوران طبی مدد درکار ہے۔ روزانہ اوسطاً تین خواتین حمل کی پیچیدگیوں یا زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ اگر ان خواتین کو کسی دائی یا ڈاکٹر تک رسائی حاصل ہو تو 67 فیصد اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
تشدد سے تحفظ کی ضرورت
گوالتیری نے بتایا کہ ہر طرح کے تشدد سے تحفظ بھی یمنی خواتین کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جنگ اور بحران کے دوران معاشرتی دباؤ کے براہ راست اثرات خواتین اور لڑکیوں کے جسم اور زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
'یو این ایف پی اے' مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی خدمات مہیا کر رہا ہے۔ ادارہ ایسے محفوظ مراکز کی معاونت کرتا ہے جہاں خواتین کی معاشی خودمختاری اور ان کے لیے فنی تربیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ مراکز دستکاری، نفسیاتی معاونت اور خصوصی بحالی کے پروگراموں کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایسی خواتین اور لڑکیوں کو قانونی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے جو قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تشدد کا شکار ہونے والی ایک خاتون نے ادارے کے تعاون سے ایک سکیورٹی کمپنی قائم کی جو خواتین سکیورٹی گارڈز اور ماہرین پر مشتمل ہے۔ یہ کمپنی رہائشی علاقوں، بازاروں اور دکانوں میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔
امدادی وسائل کی قلت
دنیا بھر کی طرح یمن میں بھی 'یو این ایف پی اے'کی سرگرمیاں شدید مالی بحران کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ادارہ متعدد خدمات معطل یا محدود کرنے پر مجبور ہے۔ گزشتہ سال اسے امدادی وسائل میں تقریباً 40 فیصد کمی کا سامنا رہا کیونکہ بعض عطیہ دہندگان اور رکن ممالک نے اپنی معاونت واپس لے لی تھی۔
گوالتیری نے وضاحت کی کہ موجودہ حالات میں اگر کسی خاتون کو دوران حمل طبی پیچیدگی یا شدید خون بہنے کا سامنا ہو تو وہ طبی سہولیات حاصل نہیں کر پاتی اور بیشتر حالات میں ماں اور بچہ دونوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
صنفی بنیاد پر تشدد کا شکار خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ گوالتیری نے بتایا کہ رواں سال یمن میں ادارہ اپنے محفوظ پناہ مراکز میں نئی خواتین اور لڑکیوں کو جگہ دینے کے قابل نہیں رہا۔ امدادی وسائل صرف رقم کا نام نہیں بلکہ انسانی جانوں سے جڑا معاملہ ہے۔ بعض اوقات یہی فیصلہ کرتا ہے کہ کوئی عورت زندہ رہے گی یا نہیں۔
ماؤں کی صحت پر اسلحہ کی ترجیح
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی معاشرہ کسی بحران یا کشیدگی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی قیمت خواتین اور لڑکیاں ہی کیوں ادا کرتی ہیں؟ وہ اچانک سیاسی کشمکش کا مرکز کیوں بن جاتی ہیں؟"
انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ تمام انسان ایک ماں کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں، چاہے ان کے سیاسی نظریات یا وابستگیاں کچھ بھی ہوں۔ بیشتر لوگوں کی والدہ ان کی پیدائش کے موقع پر فوت نہیں ہوئی ہو گی جبکہ یمن جیسے ممالک میں یہ ایک عام حقیقت ہے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ دائیوں اور طبی عملے کی معاونت کرکے خواتین کی جانیں بچانا کوئی متنازع مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ سب لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن جب وسائل تقسیم کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو ہر مرتبہ اسلحے کی ٹیکنالوجی ماؤں کی صحت پر ترجیح حاصل کر لیتی ہے۔