کڑا وقت: ایڈز کے خلاف کامیابیوں کو امدادی کٹوتیوں سے خطرہ
امداد میں کٹوتیوں، انسانی حقوق کی خراب صورتحال اور ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے لیے خدمات پر سرمایہ کاری میں مسلسل کمی نے ایڈز کے خلاف برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دنیا بھر میں ایچ آئی وی/ایڈز کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسائل کی شدید قلت کے ساتھ شہری آزادیوں کے محدود ہونے اور کمزور طبقات کو بیماری کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینے کے رجحان نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس نے ایچ آئی وی کے خلاف عالمی جدوجہد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ بہت سے لوگ علاج تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے اور وائرس کا پھیلاؤ بدستور جاری ہے۔
ذیلی صحارا افریقہ میں ہر ہفتے تقریباً 3,000 نوعمر لڑکیاں اور نوجوان خواتین ایچ آئی وی کا شکار ہو رہی ہیں جو اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اب بھی سب سے زیادہ کمزور اور خطرات سے دوچار طبقات تک موثر انداز میں نہیں پہنچ پا رہی۔
اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایڈز' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ دنیا متحد ہو کر اس بیماری کے خلاف جدوجہد کرتی آئی ہے جس کے نتیجے میں اس کے پھیلاؤ میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی لیکن موجودہ حالات میں ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کی کوششوں کو سنگین دھچکا پہنچا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات
- گزشتہ سال متعدد ممالک کی جانب سے عالمی ترقیاتی امداد میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
- امدادی وسائل کی قلت کے نتیجے میں ایچ آئی وی پروگرام شدید متاثر ہوئے۔ 2024 سے 2025 کے درمیان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایچ آئی وی کے تشخیصی پروگراموں میں 22 فیصد کمی دیکھی گئی۔
- بعض جگہوں پر مانع حمل (کنڈوم) کی فراہمی کے لیے وسائل میں 90 فیصد سے زیادہ کمی کر دی گئی۔
- 2025 میں مزید و ممالک نے ہم جنس پرست تعلقات سے متعلق نئی فوجداری پابندیاں متعارف کروائیں جبکہ ایک ملک نے رواں سال ایسی سرگرمیوں پر سزاؤں میں اضافہ کر دیا ہے۔
- ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے روزانہ استعمال ہونے والی دوا 'پری ایپ' کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور 2024 سے 2025 کے دوران 62 ممالک میں اس کے استعمال کی شرح 38 فیصد گر گئی۔
- رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'ایل جی بی ٹی کیو آئی پلَس' افراد جیسے کمزور طبقات کو ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔
مریضوں کے لیے خدمات میں کمی
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 25 برس میں ایچ آئی وی کے خلاف عالمی کوششوں کو صحت عامہ کی تاریخ کی کامیاب ترین داستانوں میں شمار کیا جاتا ہے:
- 2010 کے بعد ایڈز سے اموات میں 56 فیصد کمی آئی اور یہ تعداد 13 لاکھ سے کم ہو کر 2025 میں 5 لاکھ 70 ہزار رہ گئی تھی۔
- ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد میں 43 فیصد کمی آئی جو 12 لاکھ تک محدود ہو گئی۔
- ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے 4 کروڑ 9 لاکھ افراد میں سے 78 فیصد اب علاج حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم یہ کامیابیاں انتہائی نازک ہیں۔ اب بھی تقریباً 90 لاکھ افراد علاج سے محروم ہیں اور مالی معاونت میں کمی کے باعث علاج کے شعبے میں حاصل کردہ پیش رفت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
غیر مساوی پیشرفت اور بڑھتے مسائل
ایچ آئی وی کی روک تھام کے پروگرام ایسے وقت کمزور ہو رہے ہیں جب انہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ 2024 میں اس مرض کے خلاف ہونے والے مجموعی اخراجات کا صرف 11 فیصد حصہ اس کی روک تھام پر خرچ کیا گیا جو پہلے ہی ناکافی تھا۔ اب یہ محدود سرمایہ کاری مزید سکڑ رہی ہے اور اس بات کے کوئی آثار نہیں کہ مقامی یا ملکی سطح پر فراہم کردہ وسائل اس خلا کو پر کر سکیں گے۔
47 ممالک اور ایشیائی الکاہل، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے تین خطوں میں کام کرنے والی 79 تنظیموں کے ایک جائزے سے سامنے آیا ہے کہ:
- ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے لیے مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی میں 50 فیصد کمی آئی۔
- جسم فروشی سے وابستہ لوگوں کے لیے خدمات میں 82 فیصد کمی دیکھی گئی۔
- ہم جنس پرست مردوں کے لیے خدمات میں 85 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
- یو این ایڈز کے مطابق، جب مقامی تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی ختم ہوتی ہے تو پورا نظام اپنی رسائی، عوامی اعتماد اور تاثیر کھو دیتا ہے۔
5 سال میں ایڈز کے خاتمے کا عزم
22 اور 23 جون کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس برائے ایچ آئی وی/ایڈز میں رکن ممالک ایک نئی سیاسی دستاویز کی منظوری دیں گے جس کا مقصد آئندہ پانچ برس میں ایڈز کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس دستاویز میں ایڈز کے خلاف عالمی حکمت عملی کے تحت 2030 کے لیے درج ذیل نئے اہداف شامل ہوں گے۔
- 2030 تک 4 کروڑ افراد کو اینٹی ریٹرو وائرل علاج کی فراہمی۔
- 2 کروڑ افراد کی ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ادویات تک یقینی رسائی۔
- ہر فرد کو امتیاز، تعصب اور بدنامی سے پاک خدمات کی دستیابی۔
ونی بیانیما نے واضح کیا ہے کہ اگر اس حکمت عملی کو اپنایا جائے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک آئندہ پانچ برس کے لیے مضبوط سیاسی اعلامیہ منظور کریں، تو 2030 تک ایڈز کا خاتمہ ممکن ہے۔ موثر اقدامات نہ کیے گئے تو گزشتہ دہائیوں کی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیاں ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔