انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: جانیے لڑکیوں کا اپنے مستقبل بارے فیصلہ کرنے کی مہم کیا ہے

سر پر اسکارف پہنے ایک خاتون پاکستان کے دیہی علاقوں میں کھیت میں کام کرنے کے لیے کدال کا استعمال کر رہی ہے۔
© UNICEF/Fasiha Sharif شاہین بیگم جنہوں نے اپنے والد سے کھیتی باڑی سیکھی اب کاشتکاری میں اپنے شوہر کی مدد کرتی ہیں۔

پاکستان: جانیے لڑکیوں کا اپنے مستقبل بارے فیصلہ کرنے کی مہم کیا ہے

خواتین

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی لیڈی ہیلتھ وزیٹر شاہین کے گاؤں میں کم عمری کی شادی معمول کی بات سمجھی جاتی تھی۔ جب انہوں نے اس رسم کو روکنے کی کوشش کی تو لوگوں نے ان کے گھر کو نذر آتش کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔

شاہین ضلع مردان کے علاقے خزانہ ڈھیری میں مقامی لوگوں کے ذریعے قائم کردہ تحفظ اطفال کمیٹی کی صدر اور تربیت یافتہ لیڈی ہیلتھ وزیٹر ہیں۔ وہ ایسی نقصان دہ سماجی روایات کے خلاف آگاہی مہم چلاتی ہیں جن سے خواتین اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ ضرورت مند بچوں کو تحفظ کی خدمات تک پہنچانے میں بھی مدد دیتی ہیں اور پولیو مہمات، حفاظتی ٹیکوں اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی لوگوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے 2005 میں میٹرک تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام شروع کر دیا تھا۔ اس کی ترغیب انہیں ان کے والد نے دی۔ وہ دیکھتے تھے کہ خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ کھیتوں میں سخت محنت کرتی ہیں اور پھر گھر واپس آ کر گھریلو کاموں میں جت جاتی ہیں مگر انہیں سیکھنے یا آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔

پاکستان میں ایک خاتون بیلچہ پکڑے ایک نہر کے کنارے کھڑی ہے، برطانیہ کی حکومت اور UNICEF کے تعاون سے بچوں کے تحفظ کے ایک سماجی اقدام میں حصہ لے رہی ہے۔
© UNICEF/Fasiha Sharif زاہدہ بی بی کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ خزانہ ڈھیری میں بچوں کے تحفظ کے لیے قائم مرکز کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں۔

کم عمری کی شادیوں کے خلاف جدوجہد

2024 میں صوبائی کمیشن برائے تحفظ و بہبود اطفال نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور برطانوی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے 'آواز ٹو' پروگرام کی معاونت سے خزانہ ڈھیری میں تحفظ اطفال کمیٹی قائم کی تھی جس کی وہ صدارت کرتی ہیں۔

کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جو اب بھی س علاقے کے بعض حصوں میں رائج ایک نقصان دہ رسم ہے۔ 2019 کے ایک جائزے کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 22 فیصد لڑکیوں اور 6 فیصد لڑکوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔ 

شاہین کی کمیٹی اپنے علاقے میں اب تک کم از کم ایسی چار لڑکیوں کی شادیاں رکوانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں کئی مرتبہ ان خاندانوں کے پاس جانا پڑا جنہیں کم عمری کی شادی کے طبی نقصانات، قانونی نتائج اور تحفظ اطفال یونٹ کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ کام آسان نہیں تھا لیکن وہ کامیاب رہیں آج یہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کمیٹی میں مدرسے اور سکولوں کے استاد اور منتخب خاتون کونسلر سمیت معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ شاہین کو پولیو مہم کی سرگرمیوں کے ذریعے تقریباً پانچ ہزار افراد تک رسائی حاصل ہے جس سے کمیٹی کو بچوں کے تحفظ سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں مدد ملتی ہے۔

مردان، پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی میٹنگ میں نیلے سر پر اسکارف والی ایک خاتون بیٹھی ہوئی خواتین کے ایک گروپ سے خطاب کر رہی ہے۔
© UNICEF/Fasiha Sharif شاہین مردان کے علاقے خزانہ ڈھیری میں بچوں کے تحفظ اور حقوق پر گفتگو کر رہی ہیں۔

سوارہ کا خاتمہ: لڑکیوں کے مستقبل کا تحفظ

کمیٹی کا اصل امتحان اس وقت ہوا جب گاؤں میں 'غیرت کے نام پر قتل' کے ایک واقعے کے بعد قبائلی تنازع شدت اختیار کر گیا اور ایک مقامی جرگے نے تصفیے کے لیے 'سوارہ' کی سفارش کی جس سے کم سن لڑکیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔

سوارہ ایک ظالمانہ رسم ہے جس کے تحت قتل یا دیگر تنازعات کے تصفیے کے لیے لڑکیوں کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا میں سوارہ قانونی طور پر ممنوع ہے لیکن بعض علاقوں میں روایتی تنازعات کے حل کے نام پر یہ رسم اب بھی جاری ہے۔

جرگے کے فیصلے کی مخالفت پر انہیں شدید سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے باوجود وہ اس رسم کو رکوانے میں کامیاب رہیں۔

بچہ مزدوری کے خلاف کامیاب مہم

بچوں سے مزدوری کروانا بھی اس علاقے میں بڑا مسئلہ بن چکا تھا جس کی وجہ سے بہت سے بچے تعلیم چھوڑ کر گڑ بنانے کی فیکٹریوں میں غیر محفوظ کام کرنے پر مجبور تھے۔ 

شاہین اور ان کی کمیٹی نے فوڈ اتھارٹی اور اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ مل کر انسداد بچہ مزدوری قوانین پر عملدرآمد بہتر بنانے اور والدین و فیکٹری مالکان میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

وہ فخر سے بتاتی ہیں کہ انہوں نے 2024 میں بچہ مزدوری کے خلاف جدوجہد شروع کی اور مئی 2026 تک ان کارخانوں میں 18 سال سے کم عمر کا ایک بھی بچہ کام نہیں کر رہا تھا۔

پاکستان کے ایک صحن میں ایک نوجوان لڑکے کو پکڑے ایک شخص ایک عورت کے پاس کھڑا ہے۔
© UNICEF/Fasiha Sharif شاہین اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ۔

مقامی قیادت میں بچوں کا تحفظ

خیبر پختونخوا میں یونیسیف اور تحفظ اطفال کمیشن نے آواز ٹو پروگرام کے تحت چترال، مردان، سوات، چارسدہ اور لوئر دیر میں ایسی 87 کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ یہ کمیٹیاں مقامی رہنماؤں کو بچوں پر ہونے والے تشدد، استحصال اور نقصان دہ سماجی روایات کی نشاندہی، اطلاع کاری اور تدارک میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

خزانہ ڈھیری کی کمیٹی سخت اور نقصان دہ سماجی رویوں کے خلاف مقامی سطح پر موثر جدوجہد کی ایک مثال بن چکی ہے۔ شاہین کے لیے یہ سفر ابھی جاری ہے اور تبدیلی کے آثار واضح ہیں۔ جو بچے کبھی کم عمری کی شادی اور بچہ مزدوری جیسے خطرات سے دوچار تھے آج تعلیم پا رہے ہیں اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

یہ فیچر پہلے انگریزی میں یہاں شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ سنبل فاطمہ نے کیا ہے۔