انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گرین انرجی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی معدنی وسائل پر مسابقت کا سبب، انکٹاڈ

ایک بڑے کھلے گڑھے کی کان کا فضائی منظر جس میں کئی ہیوی ڈیوٹی لے جانے والے ٹرک اور ایک ڈرل رگ دھول آلود، کھدائی شدہ خطوں پر کام کر رہی ہے۔
© Unsplash/Bruna Fiscuk چلی میں تانبے کی ایک کان۔

گرین انرجی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی معدنی وسائل پر مسابقت کا سبب، انکٹاڈ

معاشی ترقی

دنیا بھر کے ممالک ماحول دوست توانائی کے نظام قائم کرنے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سی کمیاب معدنیات کے گرد ایک نئی عالمی مسابقت تشکیل پانے لگی ہے۔

یہ اہم معدنیات برقی گاڑیوں، بیٹریوں، سیمی کنڈکٹر، ڈیٹا سنٹر اور جدید ٹیکنالوجی کی بہت سی مصنوعات کی تیاری میں ناگزیر اہمیت رکھتی ہیں جو نہ صرف کمیاب ہیں بلکہ ان کی کان کنی بھی آسان نہیں ہوتی۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق، آئندہ عرصہ میں لیتھیئم، گریفائٹ، تانبا، کوبالٹ اور نکل جیسی نایاب معدنیات کی عالمگیر طلب غیرمعمولی حد تک بڑھ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، صرف لیتھیئم کی طلب میں ہی 2040 تک 350 فیصد سے زیادہ اضافے کی توقع ہے۔ تاہم، اصل مسئلہ ان کی بڑھتی ہوئی طلب نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان معدنیات کی پیداوار اور پراسیسنگ چند ممالک کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔

گزشتہ سال دنیا میں کوبالٹ کی تین چوتھائی پیداوار جمہوریہ کانگو میں ہوئی جبکہ گریفائٹ کی پیداوار اور متعدد دیگر کمیاب معدنیات کی صفائی اور انہیں کارآمد بنانے میں چین کا غلبہ رہا۔ 

خوشحالی کا موقع اور خطرہ

اس صورتحال کے نتیجے میں مختلف حکومتیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے، مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانے اور بیرونی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے تجارتی پالیسیوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2020 سے اب تک دنیا بھر میں برآمدات سے متعلق تقریباً 100 نئے اقدامات متعارف کروائے جا چکے ہیں، جن میں برآمدی ٹیکس، لائسنسنگ کی شرائط اور برآمدی پابندیاں شامل ہیں۔

معدنی وسائل سے مالا مال ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تبدیلی خوشحالی کا موقع ہونے کے علاوہ ایک خطرہ بھی ہے۔ ایسی معدنیات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، لیکن بہت سے ممالک اب بھی خام معدنیات برآمد کرتے ہیں، جبکہ ان کی زیادہ منافع بخش پراسیسنگ اور تیاری دوسرے ممالک میں ہوتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معدنی دولت رکھنے والے ممالک اپنی قدرتی دولت کی مکمل معاشی قدر حاصل نہیں کر پاتے۔

معدنی دولت کا موثر استعمال

رپورٹ کے مطابق، ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے آئندہ مرحلے کی کامیابی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہو گی کہ ممالک کو اہم معدنیات تک رسائی حاصل ہے یا نہیں بلکہ اس پر بھی ہو گی کہ آیا وہ اپنی معدنی دولت کو وسیع تر اقتصادی و صنعتی ترقی اور مقامی ویلیو ایڈیشن میں تبدیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

باالفاظ دیگر، مستقبل کی عالمی معیشت میں کامیابی صرف معدنیات نکالنے سے نہیں ملے گی بلکہ اس کا دارومدار مقامی سطح پر ان کی صفائی اور انہیں کارآمد بنانے کے عمل پر بھی ہو گا جس سے انہیں اقتصادی ترقی و خوشحالی حاصل ہو گی۔