آبنائے ہرمز میں ملاحوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا بلا جواز، آئی ایم او
بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو سلامتی کی مناسب ضمانتیں نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں خطرات برقرار ہیں اور حالیہ واقعات میں کئی ملاح ہلاک، زخمی یا گرفتار ہو چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنائی جانی چاہیے اور انہیں ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھنا لازم ہے۔ سلامتی کی قابل اعتماد ضمانتوں کی عدم موجودگی میں حالات انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ہیں اور ایسے میں آبنائے ہرمز سے محفوظ سفر کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
ڈومینگیز نے واضح کیا ہے کہ سفر کی منصوبہ بندی اور خطرات کا جامع و حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی بنیادی ذمہ داری ہر جہاز کے کپتان اور جہاز راں کمپنی پر عائد ہوتی ہے جنہیں متعلقہ بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے مطابق اپنے فرائض انجام دینا چاہئیں۔ کوئی بھی تجارتی یا دیگر ضرورت ملاحوں کو سنگین خطرات سے دوچار کرنے کا جواز نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے تنازع کے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے اجتناب برتیں جس سے بے گناہ ملاحوں کی زندگی و سلامتی کو خطرہ ہو۔ کشیدگی میں اضافے سے گریز اور بحری کارکنوں کے تحفظ کو دیگر تمام مفادات پر ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امن معاہدے کی اطلاعات کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ ادارہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی متضاد اطلاعات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے کے حتمی مسودے پر اتفاق رائے کے بارے میں سوال پر کہا ہے کہ ایسی پیش رفت حوصلہ افزا ہے لیکن حالات کی نزاکت اور اس حقیقت کے پیش نظر وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کہ ایسی صورتحال گزشتہ ہفتوں میں کئی مرتبہ دیکھنے کو ملی ہے۔
یہ جنگ فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں سکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں امریکی اہداف پر حملے کیے۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے اس تنازع میں فعال طور سے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔