کانگو: ایبولا کا بڑھتا پھیلاؤ بچوں کے لیے خطرناک، یو این ادارے
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی علاقوں میں ایبولا کی مہلک وبا مسلسل پھیل رہی ہے اور آئندہ ایام میں بڑے پیمانے پر بچوں کو یہ وائرس لاحق ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں وباؤں اور ہنگامی طبی اقدامات کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر آلیور لے پولائن نے کہا ہے کہ ملک میں روزانہ نئے علاقوں میں ایبولا کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ مشرقی علاقوں میں آبادی کی مسلسل نقل و حرکت بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔
وبا کی تصدیق ہوئے تقریباً تین ہفتے گزر چکے ہیں اور اس دوران کانگو کے طبی حکام نے ایبولا وائرس کی نایاب اور انتہائی خطرناک قسم بنڈی بگیو سے 676 افراد کے مصدقہ طور پر متاثر ہونے اور 136 اموات کی اطلاع دی ہے۔ یہ وبا صوبہ ایتوری سے جنوبی کیوو تک تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل علاقے میں پھیل چکی ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس خطے میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور انہیں قابل انسداد بیماریوں کے خلاف بنیادی ویکسین بھی نہیں مل سکیں۔ اسی لیے یہ بچے بیماریوں کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہیں جبکہ علاقے میں طویل عرصہ سے جاری لڑائی نے سنگین انسانی بحران کو جنم دے رکھا ہے۔
بچوں کے لیے سنگین خطرات
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) میں ہنگامی طبی حالات و اقدامات کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ڈگلس نوبیل نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہوا تو یہ گھر گھر پہنچ جائے گی جس سے بڑی تعداد میں بچے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اب تک متاثرہ علاقوں میں بچے پہلے ہی انتہائی کمزور حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
صوبہ ایتوری میں پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زیادہ بچے دائمی غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ہر پانچ میں سے ایک بچہ ایسا ہے جسے زندگی کے ابتدائی حفاظتی ٹیکے بھی نہیں لگ سکے جن سے خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے تحفظ ملتا ہے۔
یونیسف کے امدادی اقدامات
یونیسف نے چھ ماہ پر مشتمل امدادی منصوبے کے تحت 37 لاکھ افراد کی مدد کے لیے یورپی یونین کے تعاون سے آٹھ مال بردار پروازوں کے ذریعے 100 ٹن سے زیادہ ہنگامی امدادی سامان کانگو روانہ کیا ہے۔ اس سامان میں طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس، ادویات، صفائی کا سامان اور دیگر اشیا شامل ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں وائرس کا موثر مقابلہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایبولا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کا پھیلاؤ کووڈ-19 سے بالکل مختلف انداز میں ہوتا ہے اور یہ عموماً جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکول بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات اور اساتذہ، عملے اور طلبہ میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔
یونیسف نے وبا سے متاثرہ علاقوں میں 1,600 سے زیادہ طبی کارکن اور رضاکار متحرک کیے ہیں جبکہ 24 جراثیم کش ٹیمیں بھی کام کر رہی ہیں جنہیں اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ گھروں تک رسائی ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر نوبیل نے کہا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف وسائل، انسانی امداد تک رسائی اور مقامی لوگوں کے اعتماد کی ضرورت ہے تاکہ اس مشن کو کامیاب بنایا جا سکے۔