انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خون کی فراہمی میں بہتری لیکن سب کی پہنچ میں نہیں، رپورٹ

منگولیا میں ایک خاتون خون کا عطیہ دے رہی ہے جبکہ سفید وردی میں ایک طبی پیشہ ور نمونہ جمع کر رہا ہے۔
WHO Mongolia منگولیا میں خون عطیہ کرنے کا ایک کیمپ۔

خون کی فراہمی میں بہتری لیکن سب کی پہنچ میں نہیں، رپورٹ

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا میں تمام لوگوں کو طبی مقاصد کے لیے خون تک یکساں رسائی حاصل نہیں ہے جس کے باعث غریب ممالک میں ہزاروں بیمار اور زخمی لوگوں کی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔

خون کے عطیات کی اہمیت واضح کرنے کے لیے 14 جون کو منائے جانے والے عالمی دن سے قبل 'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خون کی فراہمی اور حفاظت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

Tweet URL

آج دنیا بھر میں 85 فیصد سے زیادہ خون رضاکارانہ اور بلا معاوضہ عطیہ دہندگان سے حاصل ہوتا ہے جنہیں طویل عرصہ سے طبی مقاصد کے لیے خون کی فراہمی کا سب سے محفوظ اور پائیدار ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں دنیا بھر میں خون کی فراہمی کے نظام کا سب سے جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا کی 97 فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والے 168 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ 

غیر مساوی پیش رفت

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ بہت سے ممالک نے اپنے ہاں خون کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنایا ہے اور محفوظ انتقال خون کی سہولتوں کو وسعت دی ہے لیکن کم اور متوسط آمدنی والے بہت سے ممالک میں خون کی کمی، کمزور انتظامی ڈھانچے اور ناکافی مالی وسائل اب بھی محفوظ خون تک رسائی میں رکاوٹ ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' میں ادویات اور طبی مصنوعات کی پالیسیوں و ضوابط کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈیوسڈیڈٹ موبانگیزی نے رپورٹ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ خون اور متعلقہ اجزا کی مناسب و محفوظ فراہمی اور استعمال کو یقینی بنانا مضبوط طبی نظام کی بنیادی ضرورت اور ہمہ گیر طبی سہولتوں کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کے باوجود محفوظ خون اور اس سے متعلقہ چیزوں تک سب کی مساوی رسائی اب بھی بہت سے ممالک کے لیے ایک خواب ہے۔

انتقال خون کے نظام کا جائزہ

خون کی قابل اعتماد فراہمی متعدد طبی ضروریات کے لیے لازمی ہوتی ہے جن میں زچگی کے دوران بڑے پیمانے پر خون بہنا، ہنگامی جراحی، سرطان کا علاج، خون کی دائمی بیماریاں اور خون کی شدید کمی (انیمیا) شامل ہیں۔ خون کے مائع حصے پلازما سے ایسی ادویات بھی تیار کی جاتی ہیں جو خون جمنے کی خرابیوں، مدافعتی نظام کی کمزوری اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

جب محفوظ خون دستیاب نہ ہو تو ایسے مریض بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جن کی بیماریوں یا زخموں کا علاج باآسانی ممکن ہوتا ہے۔

رپورٹ میں انتقال خون کے پورے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی، خون جمع کرنے، لیبارٹری میں جانچ، طبی استعمال اور پلازما سے بنائی جانے والی ادویات تک رسائی کے تمام مراحل شامل ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پلازما کے حصول کے ذرائع کو متنوع اور اس سے تیار ہونے والی ادویات کی ترسیل کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ بہت سی جگہوں پر یہ ادویات دستیاب نہیں یا عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔