انسانی حقوق اجتماعی انسانیت کا بنیادی جزو، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق(او ایچ سی ایچ آر) نے 'بین الاقوامی اتحاد برائے انسانی حقوق' کا آغاز کیا ہے جس کے تحت حقوق کو فیصلہ سازی کے ہر مرحلے میں مرکزی حیثیت دینے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جنیوا میں اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں اس اتحاد کی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے جب دنیا میں مسلح تنازعات کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد ان لوگوں کی توانائی اور جذبے کو سمت دینا ہے جو دنیا میں مثبت تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیشتر لوگ ایک بہتر، مزید منصفانہ اور مزید عادلانہ دنیا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق ان کی شناخت کا حصہ ہیں جو انسان کی فطرت اور اجتماعی انسانیت کا بنیادی جزو ہیں۔
وولکر ترک نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چند ادارے غیرمعمولی مالی اور سیاسی طاقت استعمال کر رہے ہوں تو انسانی حقوق کو نہ صرف رہنمائی کے ذریعے بلکہ ایک موثر ضابطہ جاتی فریم ورک کے طور پر بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
اتحاد کے بنیادی اصول
اس اتحاد کا مقصد حکومتوں، سول سوسائٹی، کاروباری اداروں، شہروں، مذہبی رہنماؤں، فنکاروں، ماہرین تعلیم اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔ یہ اتحاد تین بنیادی اصولوں پر استوار ہوگا جن میں تصور، مکالمہ اور عمل شامل ہیں۔
'او ایچ سی ایچ آر' کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق انسانی حقوق کا عالمی نظام اس وقت غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ حقوق کی پامالیوں پر عموماً احتساب نہیں ہوتا، شہری آزادیوں کا دائرہ سکڑ رہا ہے، بعض ممالک کثیرالفریقی عالمی معاہدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور امدادی وسائل کی شدید کمی حقوق کے نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تعلیم
اتحاد کے حوالے سے رواں مہینے متعدد اہم اقدامات کا آغاز کیا جائے گا، جن میں کاروبار اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک عالمی ہیلپ ڈیسک، ڈیجیٹل جدت پر مبنی 'رائٹس ایکس کانفرنس' ہر کمرہ جماعت میں انسانی حقوق نامی پروگرام شروع کرنا شامل ہیں جس کا مقصد سکولوں میں ہر سطح پر انسانی حقوق کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا ہے۔
ہائی کمشنر نے دنیا بھر میں 'انسانی حقوق کے شہر' نامی اقدام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت ایسے شہروں کی تعداد 104 سے بڑھا کر 1000 تک پہنچائی جائے گی جہاں حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے نمایاں کام ہو رہا ہے۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تنازعات سے متاثرہ افراد کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یوکرین، غزہ، لبنان، میانمار، سوڈان اور ہیٹی میں جنگوں اور بحرانوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی آواز کو عالمی سطح پر سنا جانا ضروری ہے۔
طویل المدتی عالمی مہم
عالمی اتحاد برائے انسانی حقوق کو کسی عارضی یا مختصر مدتی مہم کے بجائے ایک طویل المدتی عالمی کوشش کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے لیے تین سالہ منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کا اہم سنگ میل 10 دسمبر 2028 کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی 80ویں سالگرہ ہو گا۔
ہر سال اس دن 'گلوبل الائنس ہیومن رائٹس فورم' کا انعقاد ہو گا جہاں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے اہداف و ترجیحات طے کی جائیں گی۔
وولکر ترک کے مطابق، جنیوا کو اس اقدام کا مرکز منتخب کیا گیا ہے کیونکہ یہاں انسانی حقوق سے متعلق متعدد عالمی ادارے موجود ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس اتحاد کا حقیقی گھر دنیا کے ہر اس مقام پر ہو گا جہاں انسانی حقوق پر گفتگو اور ان کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری ہے۔