انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سپین کے فٹبالر یامال یونیسف کے خیر سگالی سفیر مقرر

UNICEF خیر سگالی سفیر لامین یامل UNICEF سیاہ ٹی شرٹ پہنے مسکرا رہی ہیں۔
© UNICEF سپین کے قومی فٹبالر لامین یامال کو یونیسیف کا نیا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

سپین کے فٹبالر یامال یونیسف کے خیر سگالی سفیر مقرر

پائیدار ترقی کے اہداف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے سپین کے مشہور فٹ بال کھلاڑی لامین یامال کو اپنا خیرسگالی سفیر مقرر کر دیا ہے۔ وہ بچوں کے کھیلنے کے حق کو فروغ دینے اور جنگوں، قدرتی آفات اور دیگر انسانی بحرانوں سے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے کام کریں گے۔

18 سالہ لامین یامال کو خیرسگالی سفیر مقرر کیے جانے کا اعلان آج کھیل کے عالمی دن کےموقع پر اور میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے مابین فٹ بال ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ سے قبل کیا گیا۔ وہ کھیل کے میدان میں اقوام متحدہ کے لیے یہ ذمہ داری انجام دینے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔

Tweet URL

اس مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ تین ممالک، امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہو رہا ہے جو دو براعظموں میں واقع ہیں۔ اس موقع پر اقوام متحدہ یہ بات اجاگر کر رہا ہے کہ فٹ بال نہ صرف ایک مقبول کھیل ہے بلکہ پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے بھی موثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

سپین کی باصلاحیت ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیتنے کے مضبوط ترین امیدواروں میں شامل ہے اور کھیل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لامین یامال ان مقابلوں کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔

حقوق اطفال کے فروغ کا جذبہ

لامین یامال بچوں کے حقوق کو تحفظ دینے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ 2024 میں انہوں نے عالمی یوم اطفال کے موقع پر یونیسف کی ایک مہم کے تحت اپنے چھوٹے بھائی کے نام جذباتی خط لکھا تھا جس میں دنیا بھر کے بچوں کے لیے اچھی امیدوں اور خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ سال انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استوائی گنی سے تعلق رکھنے والی ایک نو سالہ بچی کے سپرد کر دیے تھے جو ان کی والدہ کا آبائی ملک بھی ہے۔ اس بچی نے دنیا کو اپنی روزمرہ زندگی کی جھلکیاں دکھائیں جو بارسلونا کے مشہور کیمپ ناؤ سٹیڈیم کی چمک دمک سے بالکل مختلف تھیں جہاں لامین یامال کھیلتے ہیں۔ 

یونیسف کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر کے 9 کروڑ سے زیادہ بچوں کے پاس گھر میں کھیلنے کے لیے کوئی کھلونا یا کھیل کی کوئی سادہ سہولت بھی موجود نہیں ہے۔ دو سے چار سال عمر کے تقریباً 8 کروڑ بچے اپنے والدین یا نگہداشت کرنے والوں کے ساتھ گھروں میں کھیلنے کے مواقع سے محروم ہیں۔

فٹ بال اور پائیدار ترقی

گزشتہ روز اقوام متحدہ نے ایک جائزے کے نتائج جاری کیے تھے جس میں ادارے کے 'فٹ بال فار دی گولز' نامی اقدام کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پروگرام فٹ بال کلبوں، اس کھیل کی تنظیموں، کاروباری کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کو پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا یہ اقدام فٹ بال سے وابستہ اداروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی) کے مطابق ڈھالیں۔

جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فٹ بال پر مبنی مختلف منصوبے پسماندہ اور محروم طبقات کی زندگیوں میں حقیقی فرق پیدا کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سے منصوبے عدم مساوات کو کم کرنے، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے اور ایسی شراکتوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔

فٹ بال کی غیرمعمولی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ادارے ان افراد تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں جن تک عام حالات میں پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور یوں کھیل کے لیے لوگوں کے جذبے کو مثبت سماجی تبدیلی میں ڈھالا جا سکتا ہے۔