انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مہاجرین کی اکثریت غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور، یو این رپورٹ

کاکس بازار میں پناہ گزین کیمپ میں بچوں اور نوعمروں کے لیے کثیر مقصدی مرکز کے دورے کے دوران روہنگیا پناہ گزین بچوں کا ایک گروپ کیمرے کی طرف دیکھ رہا ہے۔
© UNICEF/Royena Rasnat بنگلہ دیش کے کاکس بازار علاقے میں روہنگیا پناہ گزین بچے۔

مہاجرین کی اکثریت غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور، یو این رپورٹ

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برہم صالح نے کہا ہے کہ اندرون و بیرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی تعداد میں گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں کمی آئی ہے تاہم اس کی سطح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔

انہوں نے نقل مکانی کے عالمگیر رجحانات سے متعلق سالانہ رپورٹ کے اجرا پر بتایا ہے کہ 2025 میں ایک کروڑ 47 لاکھ افراد اپنے آبائی علاقوں یا ممالک کو واپس لوٹے جن میں بیرون ملک پناہ لینے والے 44 لاکھ اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے ایک کروڑ تین لاکھ افراد شامل تھے۔

Tweet URL

گزتہ سال 54 لاکھ افراد تشدد اور مظالم سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ تاہم اپنے علاقوں اور ممالک کو واپسی کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ افغانستان، سوڈان اور شام میں واپسی کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مہاجرین کی واپسی کی یہ شرح گزشتہ 60 برس میں دوسری بلند ترین سطح تھی۔ تاہم، ان میں سے بہت سے لوگوں کی واپسی مختلف النوع دباؤ کے تحت بھی ہوئی کئی لوگ غیر یقینی اور مشکل حالات میں واپس گئے۔

مہاجرین کی طویل المدتی بہبود

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مہاجرین کی تعداد تین فیصد کم ہو کر چار کروڑ 16 لاکھ رہ گئی تھی۔ ایک مثبت پیش رفت یہ بھی رہی کہ گزشتہ سال 24 ممالک میں تقریباً 46 ہزار بے وطن افراد کو شہریت حاصل ہوئی۔

70 فیصد مہاجرین یا پناہ گزین برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ برہم صالح نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ لاکھوں لوگوں کو طویل المدتی نقل مکانی اور انسانی امداد پر انحصار سے نکلنے میں مدد دے۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ بہت سے مہاجرین کے لیے نقل مکانی ابتدا میں جان کے تحفظ کا ذریعہ ہوتی ہے لیکن پھر پوری زندگی کا مقدر بن جاتی ہے۔ انسانی امداد زندگیاں بچاتی ہے مگر اس سے مہاجرین کو طویل مدتی فائدہ نہیں ہوتا۔ دنیا کو ایک ایسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے جو جنگ اور مظالم سے بھاگنے والے لوگوں کے لیے امید اور مواقع کے نئے دروازے کھولے۔

پناہ گزینوں میں کمی لانے کا ہدف

ہائی کمشنر نے اس حوالے سے آئندہ 10 برس میں ایسے مہاجرین یا پناہ گزینوں کی تعداد کو نصف سے کم سطح پر لانے کا ہدف پیش کیا ہے تاکہ لاکھوں افراد کے لیے بہتر مستقبل کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔ 

یہ ہدف خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ایسے ممالک پر مرکوز ہے جہاں دنیا کے بیشتر مہاجرین مقیم ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مہاجرین کی واپسی، دوسرے ممالک میں منتقلی، انسانی بنیادوں پر ویزوں کے اجرا اور روایتی امدادی نظام سے خود کفالت کی طرف منتقلی کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہو گی۔

اس اقدام میں حکومتوں، امدادی اور ترقیاتی شعبے کے اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پناہ اور تحفظ کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے مہاجرین اور پناہ گزینوں کو بااختیار بنانے کی کوششوں میں اضافہ کریں۔ 

سرمایہ کاری کی ضرورت

برہم صالح نے اس پرعزم ہدف کے حصول کے لیے درکار اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مہاجرین کی اپنی کمائی ان کے میزبان ملک میں قومی خط غربت کی سطح سے اوپر پہنچ جائے۔

پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی بنیادی اور ترجیحی حل ہونا چاہیے۔ اگر دنیا کے چند بڑے تنازعات حل ہو جائیں تو لاکھوں مزید مہاجرین محفوظ اور باوقار انداز میں اپنے وطن لوٹ سکتے ہیں۔

اس ہدف کے حصول کا ایک اور اہم ستون یہ ہے کہ مہاجرین کو قومی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے، انہیں تعلیم، صحت، مالیاتی خدمات اور روزگار کی منڈیوں تک رسائی دی جائے تاکہ وہ آمدنی پیدا کر سکیں اور مقامی و قومی معیشتوں میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اس کے لیے مہاجرین کے میزبان ممالک کی مدد کی خاطر مختلف شراکت داروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

پرعزم اور قابل حصول مقصد

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ بیرون ملک مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں جن میں انتہائی کمزور افراد کی آبادکاری، خاندانوں کا دوبارہ ملاپ اور روزگار کے اجازت ناموں اور تعلیمی وظائف تک رسائی خاص طور پر نمایاں ہیں۔ 

 رپورٹ کے مطابق، 2025 میں آبادکاری یا سپانسرشپ پروگراموں کے ذریعے دوسرے ممالک پہنچنے والے افراد کی تعداد نصف سے بھی کم ہو کر صرف 81,800 رہ گئی تھی۔

برہم صالح نے کہا ہے کہ پناہ اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا لیکن ایسے مستقبل کو قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں لاکھوں مہاجرین دہائیوں تک اپنی زندگیاں دوبارہ سنوارنے کے حقیقی امکانات کے بغیر پھنسے رہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اب خودکفالت کو فروغ دینے اور لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے پرعزم، قابل حصول اور قابل پیمائش ہدف موجود ہے۔ 'یو این ایچ سی آر' معاشرے کے تمام طبقات کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متحرک کرے گا اور لاکھوں لوگوں کو طویل المدتی نقل مکانی کی تکلیف دہ زندگی سے نجات دلانے کی راہ ہموار کرے گا۔