انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ورلڈ کپ: امریکہ نسلی امتیاز پر مبنی امیگریش پالیسی ترک کرے، وولکر ترک

ایک دھوپ والے دن، نیو جرسی کے مشرقی رتھر فورڈ میں میٹ لائف اسٹیڈیم کا فضائی منظر۔
© FIFA فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا فائنل امریکا کے شہر نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہوگا۔

ورلڈ کپ: امریکہ نسلی امتیاز پر مبنی امیگریش پالیسی ترک کرے، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے فٹ بال ورلڈ کپ کے مشترکہ میزبان امریکہ سے امیگریشن اور سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نسلی امتیاز پر مبنی جانچ پڑتال اور نگرانی سے کھلاڑی، ٹیموں کا عملہ اور شائقین منفی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ پر منفی اثرات مرتب کریں گے جو 11 جون سے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں بیک وقت شروع ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے بڑے بین الاقوامی مقابلے دراصل ایسے مواقع ہوتے ہیں جہاں پوری دنیا اتحاد اور امن کے جذبے کے ساتھ یکجا ہوتی ہے۔ قدیم یونان کی روایت تھی کہ ایسے مواقع جنگ بندی اور تنازعات میں وقفے کا سبب بنتے تھے۔ لہٰذا اس ورلڈ کپ کو بھی نہ صرف شریک ٹیموں بلکہ شائقین، معاشرے اور پوری دنیا کے لیے ایک باوقار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

ویزوں کی منسوخی

امریکہ میں داخلے سے متعلق سامنے آنے والے متنازع واقعات میں ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کا اپنا تربیتی کیمپ امریکی ریاست ایریزونا سے منتقل کرکے میکسیکو لے جانا بھی شامل ہے جبکہ بعض ایرانی حکام کو ویزا جاری نہیں کیا گیا۔

اسی طرح، فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) سے منظور شدہ صومالی ریفری کو 'سکیورٹی سے متعلق خدشات' کے باعث امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر ایسی تصاویر بھی گردش کرتی رہیں جن میں ایک امریکی ہوائی اڈے کے رن وے پر سکیورٹی اہلکاروں کو سینیگال کے ایک کھلاڑی کی تلاشی لیتے دکھایا گیا ہے۔

مراکش اور سکاٹ لینڈ سمیت مختلف ممالک کے متعدد شائقین نے شکایت کی ہے کہ روانگی سے کچھ ہی وقت پہلے ان کی سفری دستاویزات مسترد یا منسوخ کر دی گئیں حالانکہ وہ سفر کے لیے بھاری اخراجات پہلے ہی ادا کر چکے تھے۔

امیگریشن قوانین پر خدشات

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ یہ مثالیں امیگریشن قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق وسیع تر خدشات کو اجاگر کرتی ہیں۔ ایسی پالیسیاں اختیار کی جانا چاہئیں جن کے تحت انسانی حقوق اور وقار کا احترام ہو جبکہ فٹ بال ورلڈ کپ کا ایک مقصد دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا بھی ہے۔

یہ ٹورنامنٹ اتحاد اور عالمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک منفرد موقع ہے اور میزبان ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کریں۔

ہائی کمشنر نے امید ظاہر کی ہے کہ مہاجرین، پناہ گزینوں یا سیاسی پناہ کے متلاشی افراد سمیت دوسروں کے ساتھ غیرانسانی طرز عمل کا خاتمہ ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشروں کو مزید منقسم کرنے والی سوچ اور بیانیے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔