انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سمندروں کو آلودہ کرنے والے پلاسٹک بارے جاننے کے 5 اہم نکات

ایک مانتا شعاع سمندر کی سطح پر تیرتے ہوئے پلاسٹک کے کچرے کی تہہ کے نیچے پانی کے اندر تیر رہی ہے۔
© The Ocean Story/Vincent Kneefel پلاسٹک سمندری جانداروں کی خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت، جسمانی افعال، مدافعتی نظام، نشوونما اور افزائش نسل سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سمندروں کو آلودہ کرنے والے پلاسٹک بارے جاننے کے 5 اہم نکات

موسم اور ماحول

جراحی کے دستانوں سے لے کر پانی کی بوتلوں، سودا سلف کے لیے استعمال ہونے والے تھیلوں اور چیونگم تک ہماری روزمرہ زندگی میں پلاسٹک عام استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مضبوطی اور پائیداری نے انسان کو اس کا عادی بنا دیا ہے لیکن پلاسٹک کی یہی خصوصیت ماحول کے لیے سنگین مسئلہ بھی بن گئی ہے۔

جب پلاسٹک سمندری ماحول میں پہنچتا ہے تو اس کے بڑے ٹکڑے آبی حیات کا گلا گھونٹتے اور مرجانی چٹانوں (کورل ریف) جیسے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ٹکڑے ٹوٹ کر پلاسٹک کے انتہائی باریک زہریلے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن سے غذائی زنجیر آلودہ اور زہریلی ہو جاتی ہے۔ جب پلاسٹک طور پر مکمل طور پر بکھر جاتا ہے تب بھی اس کے کیمیائی بندھن باقی رہتے ہیں اور اس کے مضر اثرات ختم نہیں ہوتے۔

تازہ ترین عالمی سمندری جائزے کے مطابق، چار ہزار سے زیادہ آبی انواع پلاسٹک کی آلودگی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ جائزہ پائیدار ترقی کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی پہلوؤں کے تناظر میں دنیا کے سمندروں کا سب سے جامع تجزیہ سمجھا جاتا ہے۔

1600 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مدیر اور 650 سے زیادہ ماہرین کی آرا کو یکجا کرنے والے ڈاکٹر ایان بٹلر کے مطابق، پورا سمندری نظام اس آلودگی سے متاثر ہو رہا ہے۔ پلاسٹک سمندری جانداروں کی خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت، جسمانی افعال، مدافعتی نظام، نشوونما اور افزائش نسل سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ انہیں کمزور کرتا، ہلاک کرتا ہے اور آبادیوں کے توازن کو بدل دیتا ہے۔

آج منائے جانے والے سمندروں کے عالمی دن پر پلاسٹک کی آلودگی کے بارے میں درج ذیل پانچ حقائق قابل توجہ ہیں۔

ماہی گیری کی کشتی پر سوار ایک شخص پلاسٹک کی بوتلوں کو ایک ٹوکری اور بلیو سرکل ری سائیکلنگ بیگ میں ترتیب دے رہا ہے۔
Blue Circle پلاسٹک کا کوڑا دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا، سمندروں کو آلودہ کرتا اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتا ہے۔

1۔ سمندروں میں پلاسٹک کے ڈھیر

سمندروں میں موجود پلاسٹک کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص انتظام، پلاسٹک کے باریک ذرات اور سمندری سرگرمیاں اس کی خاص وجوہات ہیں۔ اندازے کے مطابق، ہر سال پلاسٹک کا 5 کروڑ 21 لاکھ میٹرک ٹن کچرا ماحول میں خارج ہوتا ہے۔

اس مسئلے کی نوعیت تمام خطوں میں ایک جیسی نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سڑکوں اور عوامی مقامات پر کچرا پھینکنا آلودگی کا بڑا سبب ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں کچرے کا کسی ایک جگہ جمع نہ ہونا اور مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگنا بنیادی مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر بٹلر کے مطابق، یہی وہ رساؤ ہیں جو بالآخر سمندروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے ہمیں جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ اس حقیقی حجم کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔ سمندر کی سطح یا ساحلوں پر نظر آنے والے پلاسٹک کے بڑے چھوٹے ذرات مجموعی سمندری پلاسٹک کا صرف 3 سے 4 فیصد ہیں۔ باقی پلاسٹک سمندر کی تہوں میں، پانی کے اندر یا نہایت باریک ذرات کی شکل میں بکھرا ہوا ہے جسے واپس لانا انتہائی مشکل ہے۔

2۔ پلاسٹک کے باریک ذرات کا معمہ

پلاسٹک سمندر میں پہنچنے کے بعد صرف ساحلوں یا تیرتے ہوئے کچرے کے ڈھیروں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے باریک ترین ذرات سمندر کی سطح سے لے کر اس کی انتہائی گہری تہوں تک دریافت ہو چکے ہیں۔

اندازہ ہے کہ دنیا کے بالائی سمندروں میں باریک پلاسٹک کے تقریباً 24.4 کھرب ذرات موجود ہیں۔ ان ذرات کی لمبائی پانچ ملی میٹر سے کم ہوتی ہے اور عموماً یہ پلاسٹک کے بڑے ٹکڑوں کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں۔ یہ جانداروں کے مدافعتی نظام میں خرابی، سوزش، نشوونما میں کمی اور توانائی کے توازن میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔

تاہم ایسے ذرات اور ان کے طویل المدتی حیاتیاتی اثرات کے بارے میں انسان کی معلومات تاحال نہایت محدود ہیں۔ پلاسٹک جس قدر باریک ہوتا جاتا ہے، اسے تلاش کرنا، اس کی نگرانی کرنا، اسے ہٹانا اور اس کے خطرات کا اندازہ لگانا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹے ذرات خلیاتی جھلیوں جیسی قدرتی حیاتیاتی رکاوٹوں کو بھی آسانی سے عبور کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بٹلر کا کہنا ہے کہ ان باریک ذرات کی مقدار غذائی زنجیر میں بالائی جانب بڑھتی جاتی ہے۔ سب سے چھوٹے جاندار انہیں نگلتے ہیں جس کے بعد وہ خود بڑے جانداروں کی خوراک بنتے ہیں اور یوں یہ ذرات بتدریج پوری غذائی زنجیر میں جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

نیروبی میں UN ماحولیاتی اسمبلی میں پلاسٹک کی بوتلوں سے بنی یادگار نل کی شکل میں ہے۔
UNEP/Cyril Villemain سال 2022 میں ماحول پر یو این کی کانفرنس کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہوئی تھی جہاں کینیڈا کے فنکار بینجمن وان ونگ کا فن پارہ ’پلاسٹک آلودگی کا نلکا بند کریں‘ آویزاں کیا گیا تھا۔

3۔ عارضی استعمال کے پلاسٹک کا مسئلہ 

دنیا بھر میں پائے جانے والے کچرے کا تقریباً 40 فیصد حصہ ایسے پلاسٹک پر مشتمل ہے جو ایک ہی مرتبہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہی گیری کی سرگرمیاں تقریباً 15 فیصد آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ تناسب مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پلاسٹک کی پیداوار میں کمی لانا، اس کے دوبارہ استعمال کو فروغ دینا، مصنوعات کی بناوٹ پر نظرثانی کرنا، ری سائیکلنگ میں جدت لانا اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کے متبادل تلاش کرنا ضروری ہے۔ 

ماہرین کے مطابق، صرف ری سائیکلنگ کو ہی مسئلے کا مکمل حل سمجھنا درست نہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جائے۔

پلاسٹک کے ماحول دوست متبادل کے بارے میں ڈاکٹر بٹلر کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی ترکیب بدلنے سے کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے، لیکن سمندروں کے لیے زیادہ اہم بات ہر چیز استعمال کرکے پھینک دینے کی عادت کو بدلنا ہے۔

4۔ سماجی اور معاشی نقصانات

پلاسٹک کی آلودگی نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کی صلاحیت، انسانی روزگار اور غذائی تحفظ کو بھی متاثر کرتی ہے۔

اس آلودگی کے معاشی اثرات خاص طور پر ان شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں جو سمندر سے وابستہ ہیں۔ پلاسٹک کی آلودگی کے نتیجے میں سیاحت، ماہی گیری اور بحری نقل و حمل کی صنعتوں کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ 

چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والے افراد اس آلودگی سے کہیں زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ساحلی علاقوں اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ سمندری مچھلیوں کی 386 انواع میں پلاسٹک نگلنے کے شواہد مل چکے ہیں۔

آلودہ میٹھے پانی کے جسم میں تیرتے پلاسٹک اور دیگر ملبے کے درمیان ایک پرندہ اسٹائرو فوم کے ٹکڑے پر کھڑا ہے۔
Pawan Prasad پلاسٹک کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی دریاؤں اور جھیلوں کے گرد بسیرا کرنے والے جانداروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

5۔ عالمی معاہدے کی ضرورت

اس مسئلے کا حل صرف ساحلوں کی صفائی یا زیادہ ری سائیکلنگ نہیں۔ عالمی سمندری جائزے کے مطابق، موثر اقدامات کے لیے پلاسٹک کی پیداوار کم کرنا، نئے اور بہتر مواد تیار کرنا اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کے متبادل تلاش کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کی رائے میں پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ اسی مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کے تحت پلاسٹک کی آلودگی سے متعلق بین الحکومتی مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا ہدف پلاسٹک آلودگی کے خلاف ایک قانونی طور پر پابند عالمی معاہدہ تیار کرنا ہے۔

تاہم چھ برس کی طویل مذاکراتی کوششوں کے باوجود دنیا اب تک کسی حتمی معاہدے پر متفق نہیں ہو سکی۔

ڈاکٹر بٹلر کا کہنا ہے، کئی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ بعض پابندیاں ان کی معیشت کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچائیں گی۔ ان میں خاص طور پر ایسے ملک شامل ہیں جن کی  معیشت کا انحصار پلاسٹک کی صنعت پر ہے۔