انسانی بقاء کا دارومدار سمندری ماحول کے تحفظ میں مضمر، رپورٹ
کرہ ارض کا 70 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے جن کا ماحول کو متوازن بنانے، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے اور معیشتوں اور ثقافتوں کی ترقی میں بنیادی کردار ہے لیکن کئی دہائیوں سے انہیں ایسے خطرات کا سامنا ہے جو پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
دنیا کے 86 ممالک سے تعلق رکھنے والے 550 ماہرین نے پانچ برس کی محنت سے 1600 صفحات پر مشتمل ایک جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں سمندر کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ یہ سائنسی دستاویز انسانیت کو ایسی معلومات فراہم کرتی ہے جن کی مدد سے سمندروں اور کرہ ارض کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
'عالمی سمندری جائزہ' کے عنوان سے جاری کردہ یہ رپورٹ درج ذیل حقائق سے آگاہ کرتی ہے۔
ہر انسان کی ضرورت
سمندر کسی نہ کسی طرح تمام انسانوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے خواہ وہ ساحلی علاقوں میں رہتے ہوں یا نہیں۔ یہ زمین کی اضافی حرارت اور نقصان دہ گرین ہاؤس گیسوں کا بڑا حصہ جذب کرکے ماحول کو متوازن رکھتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو شدید موسمی واقعات بڑھ جائیں گے جس سے خوراک کے نظام، رسد کے عالمی سلسلے اور انشورنس کا شعبہ خطرے میں پڑ جائیں گے۔
سمندر خوراک کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ جب مچھلیوں کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں یا موسمیاتی تبدیلی اور غیر قانونی ماہی گیری کے باعث ان کی رسد متاثر ہوتی ہے تو صرف سمندری خوراک ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت سے وابستہ کئی دوسری غذائی اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔
سمندر ذہنی و جسمانی صحت کے لیے فوائد مہیا کرتا ہے، ادویات کے حصول میں مددگار ہے اور سانس لینے کے لیے ضروری آکسیجن کا ایک اہم حصہ بھی انہی پانیوں سے آتا ہے۔ علاوہ ازیں، تجارت، سیاحت اور روزگار کے کھربوں ڈالر مالیتی شعبے بھی سمندر پر انحصار کرتے ہیں۔
سمندروں پر بڑھتا دباؤ
انسانی سرگرمیاں سمندری ماحولیاتی نظام کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔ 2024 میں دنیا کی آبادی 8.2 ارب تک پہنچ چکی تھی جن میں سے 37 فیصد لوگ ساحلوں سے 100 کلومیٹر کے اندر رہتے ہیں۔
بڑھتی آبادی کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں انسانی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کا ارتکاز بھی بڑھ گیا ہے جس سے قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، فضلے کے اخراج اور قدرتی مساکن کی تباہی میں اضافہ ہوا ہے۔
سمندر کے اندر بھی ترقیاتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ سمندری ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، گہرے سمندر میں تیل نکالنے کی تنصیبات اور زیر آب تاروں اور پائپ لائنوں کا جال بھی سمندری ماحول پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
- سمندری حدت میں اضافے اور اس کی سطح بلند ہونے سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار خاصے تشویش ناک ہیں۔
- برفانی تہوں کے پگھلنے اور پانی کے حرارتی پھیلاؤ کے باعث سطح سمندر میں اضافے کی رفتار 2023 میں 4.3 ملی میٹر سالانہ ہو گئی جو 2015 سے پہلے تقریباً 1.9 ملی میٹر سالانہ تھی۔
- قطب شمالی کا درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
- آکسیجن کی شدید کمی والے سمندری علاقوں کا رقبہ اب 45 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے جہاں زیادہ تر آبی حیات زندہ نہیں رہ سکتی۔
- 1955 کے بعد سمندری درجہ حرارت میں جس قدر اضافہ ہوا اس کا 16 فیصد صرف 2018 کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔
حیاتیاتی تنوع کا نقصان
- موجودہ حالات میں سمندری حیات شدید دباؤ کا شکار ہے۔ 1970 کی دہائی کے بعد بحیرہ غرب الہند میں مونگے کی چٹانوں میں تقریباً 80 فیصد کمی آ چکی ہے۔
- اگر عالمی حدت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ گئی تو دنیا کی ایسی 90 فیصد چٹانیں ختم ہو سکتی ہیں۔
- ساحلی جنگلات اور سمندری گھاس جیسے اہم ماحولیاتی نظام بھی مسلسل سکڑ رہے ہیں۔
- حدت میں اضافے کے باعث ننھے جاندار پلانکٹن سے لے کر بڑی جسامت کی سمندری ممالیہ مخلوقات تک، بہت سی انواع قطب شمالی اور قطب جنوبی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
سمندری آلودگی میں اضافہ
ہر سال پلاسٹک کا 5 کروڑ 20 لاکھ ٹن کچرا سمندر میں جا پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے 24 کھرب نہایت چھوٹے ذرات سمندری ماحول میں موجود ہیں۔ اب ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ذرات 4,000 سے زیادہ سمندری انواع کو متاثر کر رہے ہیں۔
سمندروں میں کیمیائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ سمندر کے پانی میں 4,000 سے زیادہ دواؤں اور ذاتی استعمال کی مصنوعات کے کیمیائی اجزا دریافت ہو چکے ہیں۔
ایک اچھی خبر یہ ہے کہ سمندر کے کچھ حصوں میں آلودگی پھیلانے والے بعض پرانے عناصر جیسا کہ پارہ کی مقدار میں کمی آئی ہے۔
غذائی نظام کو خطرہ
- سمندری غذائی نظام دنیا بھر میں غذائیت اور روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔ انسانوں کی خوراک میں استعمال ہونے والے حیوانی پروٹین کا تقریباً 20 فیصد سمندر سے حاصل ہوتا ہے۔
- سمندری آبی زراعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اب یہ 90 ارب ڈالر کی عالمی صنعت بن چکی ہے۔ تقریباً 12 کروڑ 10 لاکھ افراد تفریحی ماہی گیری سے وابستہ ہیں جو مقامی معیشت اور سماجی بہبود میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن ایسے نظام اب سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔
- 2021 میں مچھلیوں کے 37 فیصد ذخائر میں حد سے زیادہ شکار کے باعث کمی آ چکی تھی۔
- غیر قانونی اور بے ضابطہ ماہی گیری کے ذریعے سمندر سے ہر سال 80 لاکھ سے ایک کروڑ 40 لاکھ ٹن مچھلی نکالی جاتی ہے جس سے 9 تا 17 ارب ڈالر تک کی غیر قانونی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
- بیماریوں، آلودگی اور موسمیاتی دباؤ کی وجہ سے سمندری آبی زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں کا طویل المدتی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
ناپائیدار آبی معیشت
سمندری معیشت کی مالیت تقریباً 1.5 کھرب ڈالر سالانہ ہے اور اندازے کے مطابق، 2030 تک یہ تین کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ صرف ساحلی اور سمندری سیاحت ہی دنیا بھر میں 17 کروڑ 40 لاکھ ملازمتوں کو سہارا دیتی ہے۔
سمندر میں تیل و گیس کی پیداوار اور جہاز رانی کے شعبوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی تجارت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ سمندری راستوں سے منتقل ہوتا ہے جبکہ جہاز رانی کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی بڑا کردار ہے۔
انتظامی اور علمی خلا
پائیدار سمندری معیشت کے لیے لازم ہے کہ انصاف، مساوات اور قدیمی مقامی برادریوں کے روایتی علم اور تجربات کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ ان کی شمولیت کے بغیر سمندر کی صحت، معاشرتی فلاح اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گا۔
سمندر کے بارے میں موجودہ معلومات میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔ 2025 تک سمندر کی تہہ کے صرف 27 فیصد حصے کی نقشہ سازی کی جا سکی تھی جس کے باعث گہرے سمندر کے ماحولیاتی نظام، حیاتیاتی عمل اور مختلف عوامل کے مجموعی اثرات ابھی پوری طرح سمجھے نہیں جا سکے۔
'ماحولیاتی بحالی کافی نہیں'
سمندروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود انہیں درپیش مسائل کا حل ممکن ہے۔ ان میں قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور محفوظ قرار دیے گئے سمندری علاقوں کے دائرے کو وسیع کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر سمندر کے تمام ماحولیاتی نظام مکمل طور پر بحال کر دیے جائیں تو تب بھی یہ عالمی موسمیاتی اہداف کے حصول میں صرف 2 فیصد حصہ ہی ڈال سکیں گے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محض ماحولیاتی بحالی کافی نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
اگر سمندری ماحول کو تحفظ دینے کے لیے عالمی سطح پر فوری، موثر اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو سمندر کی صحت مزید بگڑتی جائے گی۔ اس کا نتیجہ موسمیاتی عدم استحکام، حیاتیاتی تنوع کے وسیع تر انحطاط، غذائی عدم تحفظ، روزگار کے نقصان اور اربوں انسانوں کی بہبود کے لیے خطرات کی صورت میں برآمد ہو گا۔