انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غوطہ خور سامنے لائے آبنائے ہرمز کی تہوں میں چھپے قدرت کے خوبصورت مناظر

پوری سامان میں لیس ایک سکوبا ڈائور سمندری مرجان کے ریف پر سے تیر رہا ہے اور سمندر میں مچھلیاں ہیں۔
©Yali Zhu شان ڈو آبنائے ہزمز کے قریب غوطہ زن ہیں۔

غوطہ خور سامنے لائے آبنائے ہرمز کی تہوں میں چھپے قدرت کے خوبصورت مناظر

از جینگ ژانگ
موسم اور ماحول

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور دنیا کو کئی برسوں کے سنگین ترین جغرافیائی سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو آبنائے ہرمز یکا یک عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

ایران نے اس آبی گزرگاہ کو غیر ملکی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا، تجارتی بحری جہازوں پر حملے شروع ہوئے، اس سمندری راستے سے دنیا کو تیل و گیس کی فراہمی بند ہو گئی اور 20 ہزار ملاح خلیج فارس میں کھڑے بحری جہازوں پر پھنس گئے۔ لیکن اس تمام ابتری میں سمندر کی سطح تلے مچھلیاں بدستور تیرتی رہیں۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم تین چینی غوطہ خور روئی لی (ڈائیونگ انسٹرکٹر)، شان ڈو (فری ڈائیور) اور جی ژانگ (ٹیکنیکل ڈائیور) ساحلی علاقے بند ہونے کے باعث کئی ہفتوں تک سمندر میں اترنے سے محروم رہے۔ اپریل کے وسط میں جنگ بندی کے نتیجے میں سمندر تک رسائی محدود پیمانے پر بحال ہوئی تو وہ فوراً دوبارہ پانی میں اتر گئے۔

'انسان اور سمندروں کے باہمی تعلق کا ازسرنو تصور' امسال 8 جون کو منائے جانے والے سمندر کے عالمی دن کا خاص موضوع ہے۔ ان تینوں شخصیات کے لیے یہ تصور محض نعرہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔

گہرے نیلے پانی والی ایک وسیع خلیج، جس کے کنارے خشک، پتھریلے پہاڑ اور دائیں جانب ایک چھوٹی ساحلی بستی واقع ہے۔
©Jie Zhang اومان سے آبنائے ہرمز کا نظارہ۔

پرامن اور حسین سمندر

شان ڈو بتاتی ہیں کہ سمندر میں اترنے سے پہلے انہیں قدرے تشویش لاحق تھی۔ انہوں نے جنگ بندی کے بعد 18 اپریل کو متحدہ عرب امارات اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے سب سے تنگ حصے میں غوطہ خوری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ کے بعد دوبارہ یہ موقع ملنا ان لیے بے حد خوشی کی بات تھی۔ سمندر میں انہیں ڈولفن کا ایک بڑا غول دکھائی دیا اور ہر طرف امن اور حسن پھیلا نظر آیا۔

ژانگ کہتی ہیں کہ آبنائے ہرمز میں رنگا رنگ اور متنوع مرجانی چٹانوں کا منظر دنیا میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں سمندری تہہ کی ساخت کے مطابق نرم اور سخت دونوں طرح کی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔ سمندری کچھوؤں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ یہ کسی محفوظ قدرتی پارک کا منظر معلوم ہوتا تھا۔

تشویشناک مناظر

انہوں نے کچھ پریشان کن علامات بھی دیکھیں۔ سمندر کی تہہ میں انہیں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑی مقدار میں سفید رنگ کا ملبہ دکھائی دیا جو نجانے کہاں سے آیا تھا۔ جب وہ اور ان کے ساتھی آبنائے کے مشرقی حصے میں ڈولفن کے پیچھے گئے تو انہیں پانی میں سبز کائی، تیل کی تہہ اور تیرتا ہوا کچرا دکھائی دیا۔

ژانگ کے مطابق، پہلے جب وہ ڈولفن کا تعاقب کرتی تھیں تو پانی نیلگوں اور شفاف ہوتا تھا۔ لیکن یہ نیا منظر دیکھنا واقعتاً دل شکن بات تھی۔

گہرے نیلے سمندر کے پانی میں تیرتے ہوئے شارکوں کا ایک سکول۔
©Jie Zhang مالدیپ کا سمندر شارک مچھلیاں جہاں کی مستقل مکین ہیں۔

غیرمعمولی مرجانی نظام

روئی لی دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع رکھنے والا سمندری علاقہ نہیں لیکن اس کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ایسے مرجانی نظام کو جنم دیتی ہے جو غیر معمولی تنوع کا حامل ہے۔ یہاں کچھ مرجان چاندی کی سوئیوں کی طرح سفید ہیں جبکہ بعض صنوبر کے جنگلات کی مانند جامنی رنگ کے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سمندری گھوڑے، وہیل شارک اور جانداروں کی کئی نایاب انواع بھی پائی جاتی ہیں۔

وہ ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک کشتی کا کپتان نہ تو غوطہ خوری کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے ڈولفن سے رابطہ کرنا آتا تھا۔ اس کے باوجود وہ ڈولفن کے ایک خاص غول تک پہنچ جاتا تھا جیسے وہ اسے پہچانتی ہوں۔ 

سمندر کی بے بسی

لی جانتے ہیں کہ جنگ ایسی مقام کو کس قدر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، اگر تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملہ ہو جائے تو اس کے نتائج سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ بہت سے سمندری جاندار انتہائی چھوٹے اور نازک ہوتے ہیں۔ صرف ایک حملہ بھی ان حیرت انگیز انواع کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے جنہیں شاید انسان نے ابھی تک دیکھا بھی نہ ہو۔

ژانگ سمندری دنیا کی بے بسی کو نہایت دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ زیر آب ماحولیاتی نظام کی طرف سے کوئی بول نہیں سکتا۔ مچھلیاں نہیں بول سکتیں، بڑے سمندری جانور بھی اپنی بات نہیں کہہ سکتے۔ انسان اپنی تمام لڑائیاں، جنگیں اور آلودگی سمندر پر تھوپ دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ سمندر کے پاس اپنے دفاع کا کوئی موثر ذریعہ نہیں۔ وہ صرف انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے نقصان اور تنازعات کا بوجھ برداشت کرتا رہتا ہے۔

ایک شخص جو ڈائیونگ سوٹ اور ماسک پہنے ہوئے ہے، سمندر اور نیلے آسمان کے خلاف امن کا نشان بنا رہا ہے۔
Courtesy of Jie Zhang. سمندر کی گہرائیوں سے سطح آب پر آ کر جی ژانگ سورج کی تمازت محسوس کر رہی ہیں۔

آزاد آبی جہان

غوطہ خوری نے ان تینوں کے بہت سے تصورات بدل دیے ہیں۔ ژانگ کا کہنا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ سمندری پانی کے دھارے اور مچھلیوں کے جھنڈ آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔ جب وہیل شارک سفر کرتی ہیں تو مختلف ممالک کی حدود سے گزرتے ہوئے اپنے مقررہ راستوں پر چلتی رہتی ہیں۔ وہ آزاد ہیں۔

انسان کو بھی چاہیے کہ اس نیلی دنیا کو تنازعات اور جھگڑوں کے ذریعے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے بجائے مل بانٹ کر استعمال کرے۔ 

سمندر کا مادرانہ کردار

روئی لی کے مطابق، انسان اور سمندر کا تعلق کسی بچے اور اس کے والدین جیسا ہے۔ سمندر لوگوں کو زندگی دیتا، پرورش کرتا اور کبھی کبھار غلط کاموں پر سزا بھی دیتا ہے۔ والدین کی طرح سمندر بھی خاموشی سے ہمارا انتظار کرتا ہے، ہماری مدد کرتا ہے اور ہمیں مسلسل زندگی بخشتا رہتا ہے۔

ڈو کہتی ہیں کہ پانی کے نیچے سرحدوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ وہاں ابلاغ صرف اشاروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اسی شوق اور اسی سمندر نے ان کے لیے ایک نہایت خوبصورت ماحول پیدا کر دیا ہے۔

سمندر کی سطح کے اوپر جاری تنازعات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اب بھی نازک مرحلے میں ہیں اور حالات بدستور غیر یقینی ہیں۔ لیکن زمین کا 70 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے اور روئی لی سمندر سے ناآشنا لوگوں سے کہتے ہیں کہ جب بھی موقع ملے آئیں اور سمندر کے ٹھنڈے اور تازگی بخش پانی کو خود محسوس کریں۔