یو این امن کاروں کی زندگی: تاریکی میں جنگیں اور روشنی میں فٹبال
وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مشرقی شہر زیمیو میں رات کا اندھیرا چھا چکا ہے۔ چند ہی گھنٹوں بعد دسمبر 2025 کے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں لیکن 'ازانڈے آنی کپی گبے' (اے اے کے جی) نامی باغی ملیشیا نے شہر کو قبضے میں لینے اور انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے حملہ شروع کر دیا ہے۔
ملک میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن (مینوسکا) میں شامل سینیگالی فوجی فوری طور پر حملہ آور باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روانہ کر دیے جاتے ہیں۔
سینیگالی دستے کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل جیرالڈ آراندا آسینے یاد کرتے ہیں کہ دشوار گزار علاقوں میں یہ لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ یہ نفسیاتی، جسمانی، ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی کٹھن آزمائش تھی۔
نیلی ٹوپیوں والے امن فوجی فوری جوابی اقدامات کرنے والی فورس کا حصہ تھے جو ہر وقت ہنگامی کارروائی کے لیے تیار رہتی ہے۔ انہوں نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر باغیوں کو پسپا کیا انہیں زیمیو پر قبضہ کرنے سے روکا اور یوں انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد ممکن ہوا۔
لیفٹیننٹ کرنل آسینے کہتے ہیں کہ لڑائی کے دوران ان کے سپاہیوں نے اپنی پوزیشنیں مضبوطی سے سنبھالے رکھیں۔ اس دوران وہ ان مقامات کی حفاظت بھی کرتے رہے جہاں بے گھر افراد اور پناہ گزین جمع تھے۔
جنگ سے کھیل کے میدان تک
اقوام متحدہ کے امن کار کی حیثیت سے خدمات انجام دینا صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں ہوتا۔ ان ذمہ داریوں میں مفت طبی امداد کی فراہمی، گشت اور مقامی علاقوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کرنا بھی شامل ہے۔
گزشتہ سال ملک کے مغربی حصے میں 'آر 3' نامی مسلح گروہ نے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جہاں اقوام متحدہ کے امن کار برسوں کی لڑائی کے نتیجے میں منقسم لوگوں کے درمیان اعتماد اور تعلقات بحال کرنے میں مصروف ہیں۔
'آر 3' کے سابق جنگجو، سرکاری فوج کے اہلکار اور شہری اب مشترکہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک ساتھ فٹ بال بھی کھیلتے ہیں جس کا چند ماہ قبل تک تصور بھی محال تھا۔
ذہنی صحت پر بوجھ
لیفٹیننٹ کرنل آسینے کا کہنا ہے کہ امن کاروں کی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے لیے باقاعدگی سے کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اہلکاروں کو اپنے خاندانوں سے مضبوط رابطہ برقرار رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے چاہے وہ کتنے ہی دور دراز علاقوں میں تعینات کیوں نہ ہوں۔
ان کے لیے اپنے بچوں کو دیکھنا، ان کے سامنے مسکرانا اور انہیں یہ احساس دلانا بہت اہم ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے حالانکہ یہ لوگ نہایت مشکل ماحول میں اپنا کام کرتے ہیں۔
مقامی آبادی کا اعتماد
مقامی آبادی سے ملاقاتیں امن کاروں کے مشن کو انسانی رخ دیتی ہیں۔ آسینے بتاتے ہیں کہ وہ ایک سابق نوعمر سپاہی سے ملے جو مسلح گروہوں کے زیر قبضہ علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس نے بتایا، چونکہ اقوام متحدہ کی فورس یہاں موجود ہے اس لیے اسے یقین ہے کہ وہ محفوظ رہے گا۔
مینوسکا کی کوششوں کی بدولت زیمیو کے سکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور طبی خدمات بھی بحال ہو گئی ہیں۔ جو لوگ تشدد کے باعث گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے وہ اب واپس لوٹ رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل آسینے سمجھتے ہیں کہ ایسے ہی لمحات اس مشن کے اصل مقصد اور اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
پائیدار امن کی خواہش
عسکری کارروائیوں کے علاوہ جو چیز ہمیشہ ان کی یادوں میں نقش رہے گی وہ ملک کے عوام کی جرات اور ثابت قدمی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے جنہوں نے قیام امن کے بعد ان باغیوں کو بھی قبول کرنے کا حوصلہ دکھایا جو کچھ عرصہ پہلے تک ان کے قاتل تھے۔ ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے کہ ملک میں مستقل اور پائیدار امن کی واپسی ہو۔
لیفٹیننٹ کرنل آسینے وسطی افریقی جمہوریہ میں ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ مقامی لوگ اس سینیگالی دستے کو صرف سلامتی قائم کرنے والی فورس کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے گروہ کے طور پر یاد رکھیں گے جس نے انسانوں کی حفاظت اور ان کی زندگیوں کی بحالی کو اپنا مقصد بنایا۔