انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: مانسہرہ میں پانی کے حصول کی مشکل ہوئی حل

سرخ پیٹرن کی شلوار قمیض میں ایک عورت اور سفید شال میں ایک مرد پاکستان میں بڑے بڑے پتھروں کے ساتھ ایک خشک ندی کے کنارے چہل قدمی کر رہے ہیں۔ بچے قریب ہی ہیں۔ عورت مٹی کا ایک بڑا برتن اٹھائے ہوئے ہے۔
© IWMI/Amjad Jamal لوگوں کو پانی بھرنے اور کپڑے دھونے کے لیے طویل فاصلے طے کر کے ندی نالوں تک پہنچنا پڑتا ہے۔

پاکستان: مانسہرہ میں پانی کے حصول کی مشکل ہوئی حل

معاشی ترقی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پہاڑوں کے درمیان واقع شہر مانسہرہ برسوں سے پانی کی کمی کا شکار ہے۔ یہاں دیہات میں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ پانی کے حصول کی کڑی جدوجہد میں صرف ہو جاتا ہے۔ کئی گھرانوں کے لیے یہ کام اس قدر مشکل ہے کہ خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات بھی اس کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

مانسہرہ کے ایک گاؤں کی رہائشی رحمت بی بی بتاتی ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک انہیں چند گیلن پانی لانے کے لیے کھڑی ڈھلانیں چڑھنا اور اترنا پڑتی تھیں۔ کندھوں پر بوجھ کے باعث ہر قدم پر خطرناک محسوس ہوتا تھا۔ کبھی یوں لگتا ہوتا تھا جیسے پوری زندگی اسی راستے میں گم ہو گئی ہو۔  چھ بچوں کے والد اکبر جان پیشے کے اعتبار سے کسان ہیں جن کا گھر ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ پانی بھرنے کے لیے انہیں نیچے اترنے میں 10 منٹ لگ جاتے تھے اور دریا تک پہنچنے کے لیے مزید پانچ منٹ درکار ہوتے تھے۔ اس طرح صرف ایک گیلن پانی گھر لانے میں ان کا نصف گھنٹہ صرف ہو جاتا تھا۔ 

اب ایک سادہ مگر موثر ٹیکنالوجی نے ان لوگوں کی یہ مشکل آسان کر دی ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) نے مانسہرہ کے دیہات میں آٹھ ہائیڈرالک ریم پمپ نصب کیے ہیں جو بہتے پانی کی اپنی طاقت سے ہی اسے 150 سے 200 فٹ بلند مقامات تک پہنچا دیتے ہیں۔ ان پمپوں کے ذریعے اب تقریباً 400 گھرانوں کے 2,340 افراد کو پانی کی مسلسل فراہمی ممکن ہو گئی ہے۔

روایتی لباس میں ملبوس ایک بزرگ پاکستان کے ایک دیہی، پہاڑی علاقے میں ندی سے بالٹی بھر رہے ہیں۔
© IWMI/Amjad Jamal واٹر پمپ لگنے سے پہلے لوگوں کو طویل مسافت طے کر کے پینے کے لیے پانی بھرنا پڑتا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی اور آبی بحران

مانسہرہ کی تقریباً 80 فیصد زرعی زمین کا انحصار بارشوں پر ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا نظام غیریقینی ہوتا جا رہا ہے۔ جب بارش نہ ہو تو فصلیں متاثر ہوتیں ہیں اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ 

بعض خاندان ڈیزل یا بجلی سے چلنے والے پمپ استعمال کرتے ہیں مگر ایندھن اور بجلی کے اخراجات ان کی مالی استطاعت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً، ایک ہی دریا پینے، نہانے، کپڑے دھونے اور مویشیوں کے استعمال میں آتا ہے جس سے صحت کے خطرات بھی بڑھنے لگے ہیں۔

ہائیڈرالک نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے چلانے پر کوئی اضافی لاگت نہیں آتی۔ پانی بلند مقامات پر نصب ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے، جہاں سے پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اب لوگ صفائی، کپڑے دھونے، مویشیوں کو پانی پلانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے آسانی سے پانی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کو روزانہ خطرناک راستوں پر سفر نہیں کرنا پڑتا۔

زراعت کی بحالی

پانی کی دستیابی نے زراعت کو بھی نئی زندگی دی ہے۔ قبل ازیں، تقریباً 51 ایکڑ سے زیادہ زمین پانی کی کمی کے باعث ناقابل استعمال تھی یا اس پر فصلوں کا انحصار صرف بارش کے پانی پر ہوتا تھا جبکہ اب یہ اراضی زیر کاشت ہے۔ 

گھروں کے قریب چھوٹے باغات میں ٹماٹر، آلو، پالک، بینگن اور دیگر سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف لوگوں کی غذائی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ اضافی پیداوار فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کسانوں کو پہلی مرتبہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ زرعی سرگرمیوں میں موثر کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔

پاکستان کے پہاڑی علاقے میں، ایک خاتون بالٹی اٹھائے ہوئے ہے جب کہ ایک نوجوان لڑکا کشش ثقل سے چلنے والے پانی کے ٹینک کے تھوک سے پی رہا ہے، اس کے قریب ہی ایک اور بچہ ہے۔
© IWMI/Amjad Jamal بستیوں کے پاس واٹر پمپ اور ٹینک لگنے کے سے لوگوں کو پانی کے حصول میں سہولت ہوئی ہے۔

ہر قطرے کا موثر استعمال

اضافی پانی کا موثر استعمال اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ چونکہ پمپ 24 گھنٹے کام کرتے ہیں، اس لیے ٹینک بھر جانے کے بعد بچ رہنے والا پانی ضائع ہونے کے بجائے کشش ثقل کے ذریعے کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے مزید چھ ایکڑ زمین کو کسی اضافی توانائی یا پمپنگ لاگت کے بغیر سیراب کیا جا رہا ہے۔

پانی کی آسان دستیابی نے مویشی پالنے والے خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے دریا تک لے جانا پڑتا تھا جس سے ان کی توانائی ضائع ہوتی، وزن کم ہو جاتا اور دودھ کی پیداوار متاثر ہوتی تھی۔ 

اب پانی گھروں کے قریب دستیاب ہونے کی وجہ سے مویشی زیادہ صحت مند ہیں اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پینے کے محفوظ پانی کی ضرورت

مانسہرہ کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں ہائیڈرالک ریم پمپ نہ صرف پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کر رہے ہیں بلکہ مقامی آبادی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی مہیا کر رہے ہیں۔

اگرچہ گھریلو، زرعی اور مویشیوں کی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن پینے کے محفوظ پانی کی فراہمی اب بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ ایک گاؤں کی رہائشی اقرا اچھے مستقبل کی امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ان پمپوں کے ذریعے ان کی زندگی بڑی حد تک آسان ہو گئی ہے۔ اگر پینے کے محفوظ پانی کی دستیابی ممکن ہو جائے تو حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔

نوٹ: انگریزی میں شائع ہونے والے اس فیچر کا اردو ترجمہ یسال احمر نے کیا ہے۔