انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فرائض کی انجام دہی میں جان دینے والے اہلکار ہی امن کا چہرہ، گوتیرش

UN سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس ایک رسمی تقریب میں یوکرین کے امن فوجی سرگئی پرکھوڈکو کے خاندان کو ایوارڈ پیش کر رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten جنوبی سوڈان میں امن کاری کے دوران جان دینے والے یوکرین کے سرگئی پریخودکو کے اہل خانہ کو سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش بہادری کا ایوارڈ پیش کر رہے ہیں۔

فرائض کی انجام دہی میں جان دینے والے اہلکار ہی امن کا چہرہ، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ امن کار انسانیت کا بہترین چہرہ اور قابل تحسین لوگ ہیں جو دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار رہتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات گزشتہ 78 برس میں قیام امن کے لیے جان دینے والے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ امن کاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں کہی۔ اس موقع پر انہوں نے امن کاروں کی یادگار پر پھول چڑھائے۔ 

بعدازاں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے ہال میں بھی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں 33 ممالک سے تعلق رکھنے والے 68 امن کاروں کو بعد از وفات 'ڈگ ہیمرشولڈ میڈل' سے نوازا گیا۔ ان میں ایسے 59 اہلکار بھی شامل تھے جو گزشتہ سال اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔ تقریب میں ان کی تصاویر بڑی سکرین پر دکھائی گئیں اور ان کے نام بلند آواز میں پڑھے گئے۔

غیرمعمولی بہادری کا اعتراف

یوکرین کے سرگئی پریخودکو اور یوروگوئے سے تعلق رکھنے والے سارجنٹ میتیاس ریئز کو قیام امن کی کارروائیوں کے دوران غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر 'کیپٹن مبائے دیاگنے' میڈل سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز 1994 میں روانڈا میں ہلاک ہونے والے سینیگال کے امن کار کے نام سے منسوب ہے۔

 سرگئی پریخودکو نے جنوبی سوڈان میں فرائض انجام دیتے ہوئے جان دی جبکہ میتیاس ریئز نے جمہوریہ کانگو میں خدمات کی انجام دہی کے دوران متعدد جانیں بچائی تھیں۔

اس موقع پر سرگئی پریخودکو کی بیوہ تیتیانا پریخودکو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمغہ ان کے شوہر کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ امن کی اصل قیمت بھی یاد دلاتا ہے۔ امن کار اپنے وطن سے دور ایسے انسانوں کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں جن سے شاید وہ کبھی مل بھی نہ پائیں۔ 

بعد ازاں یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے تیتیانا کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ہمیشہ وہاں جاتے تھے جہاں مدد کی ضرورت ہوتی تھی حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ خطرات سے بچنا ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ بھی اسی لیے کیا تھا کہ وہ دوسروں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔

UN سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور یونیفارم میں ملبوس ایک خاتون امن فوجی UN ہیڈ کوارٹر میں گرے ہوئے امن فوجیوں کے لیے پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں۔
UN Photo/Mark Garten اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش امن کاری میں جان دینے والے اہلکاروں کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھا رہے ہیں۔

خطرناک حالات میں قیام امن

دنیا بھر میں 50 ہزار سے زیادہ امن کار مختلف ممالک میں کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کے فرائض میں شہریوں کا تحفظ، انتخابات میں معاونت، انسانی امداد کی فراہمی اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اہم کام شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں امن کارروائیوں کے سربراہ ژاں پیئر لاکوا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کار آج ایسے پیچیدہ حالات میں کام کر رہے ہیں جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مسلح تنازعات، غلط اطلاعات کی مہمات، تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور کثیرالفریقی تعاون پر بڑھتے دباؤ جیسے مسائل موجود ہیں۔ اس کے ساتھ امن کارروائیوں کو رکن ممالک پر واجب الادا مالی تعاون کی ادائیگی میں تاخیر اور وسائل کی کمی کے باعث شدید مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ 

ان مسائل کے نتیجے میں گشت اور فضائی کارروائیوں میں کمی آ رہی ہے، بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں میں تاخیر ہو رہی ہے اور مقامی آبادی کو فراہم کی جانے والی مدد متاثر ہونے لگی ہے جبکہ امن کاروں سے توقعات مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔

ژاں پیئر لاکوا نے زور دیا کہ قیام امن میں سرمایہ کاری جاری رکھنا لازم ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ امن دستوں کو سیاسی حمایت، مناسب وسائل، تربیت اور وہ تمام صلاحیتیں فراہم کی جائیں جو ان کے سپرد کردہ فرائض کی انجام دہی کے لیے درکار ہیں۔

خواتین امن کاروں کے لیے اعزازات

تقریب کے دوران دو نمایاں خواتین امن کاروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والی میجر ابھلاشا بارک کو 'ملٹری جینڈر ایڈووکیٹ آف دی ایئر' کا اعزاز دیا گیا جو لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) میں فرائض انجام دے رہی ہیں۔

جرمنی کی انسپکٹر سٹیفنی کونگز کو 2025 کی 'ویمن پولیس آفیسر آف دی ایئر' قرار دیا گیا جنہوں نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی یہ تقریبات دراصل 29 مئی کو منائے گئے امن کاروں کے عالمی دن سے متعلق سالانہ یادگاری سرگرمیوں کا حصہ تھیں۔ 1948 میں اسی روز مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کا پہلا امن مشن قائم کیا گیا تھا۔ تب سے اب تک 20 لاکھ سے زیادہ خواتین اور مرد دنیا کے چار براعظموں میں 71 امن کارروائیوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔