انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سمندروں کی صورتحال سائنسی و عالمی توجہ کی طالب

چار افراد، بشمول محترمہ بہیا تہزیب، رچرڈ ویورز، سلویا ایرل، اور فیبین کوسٹیو، نیویارک شہر کے ایکسپلوررز کلب میں تصویر کھنچواتے ہوئے۔
© Permanent Mission of the Kingdom of the Netherlands بائیں سے دائیں: اقوام متحدہ میں نیدرلینڈز کی نائب مستقل مندوب باہیا تہذیب لی، رچرڈ ویورز، سمندری ماہر اور ماحولیاتی کارکن سلویا ارل، مہم جو اورسمندری محقق ژاک کوستو کے پوتے فیبیئن کوستو۔

سمندروں کی صورتحال سائنسی و عالمی توجہ کی طالب

موسم اور ماحول

نیویارک کے تاریخی ایکسپلوررز کلب کے لکڑی سے آراستہ ہال میں منگل کی شام ایک غیر معمولی اجتماع دیکھنے میں آیا جہاں دیواروں پر آویزاں مہم جوؤں کی تصاویر کے درمیان سفارت کار، سائنس دان اور سمندری ماحول کے محافظ ایک مشترکہ جذبے کے ساتھ جمع ہوئے۔

دنیا بھر کے سمندروں کے عالمی جائزے کی اشاعت سے قبل یہ اجتماع بیک وقت تشویش اور امید کی کیفیات کا عکاس تھا۔ یہ جائزہ رپورٹ 8 جون کو سمندروں کے عالمی دن پر شائع  ہو گی جسے 86 ممالک سے تعلق رکھنے والے 550 ماہرین نے پانچ برس میں تیار کیا ہے۔ یہ رپورٹ سمندروں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات، ماحولیاتی دباؤ اور ان کے تحفظ کے لیے درکار اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔

اقوام متحدہ میں قانونی امور کے معاون سیکرٹری جنرل سٹیون ہل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جائزہ نہایت واضح پیغام دیتا ہے کہ 'سائنس ناگزیر ہے'۔ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور سمندری نظام میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جبکہ مقامی اور عالمی سطح پر موثر پالیسی سازی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

انجانے سمندر، نامعلوم حقائق

اگرچہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سمندروں کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اب بھی سمندر کے وسیع علاقے، خصوصاً گہرے سمندری حصے تحقیق کی نگاہ سے بڑی حد تک اوجھل ہیں۔

معروف سمندری ماہر اور ماحولیاتی کارکن سلویا ارل نے خبردار کیا کہ اس رپورٹ کی ایک اہم یاددہانی یہ بھی ہے کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جسے سمجھنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیں اب بھی بہت کچھ معلوم نہیں اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے مزید کئی جلدوں پر مشتمل تحقیق درکار ہو گی۔

انہوں نے مشہور امریکی مصنف مارک ٹوین کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکثر مسائل اس وجہ سے پیدا نہیں ہوتے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم بعض باتوں کو مکمل حقیقت سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت نہیں ہوتیں۔ 

انہوں نے کہا کہ سائنس دان آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانتے ہیں لیکن یہ احساس برقرار رہنا چاہیے کہ علم کی حدود ابھی بہت وسیع ہیں۔

سٹیون ہل نیو یارک سٹی کے ایکسپلوررز کلب میں تھرڈ ورلڈ اوشین اسسمنٹ کے پیش نظارہ لانچ کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
© Permanent Mission of the Kingdom of the Netherlands قانونی امور پر اقوام متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل سٹیون ہل تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

جامع و مشمولہ علم کی ضرورت

سٹیون ہل کے مطابق، موجودہ صورتحال میں صرف معلومات جمع کرنا کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں سمندری ماحولیاتی نظام خطرناک حدوں کے قریب پہنچ رہے ہیں اور آج کیے جانے والے فیصلے ہی یہ طے کریں گے کہ مستقبل میں سمندر انسانیت کو کیا فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علم کو جامع اور مشمولہ ہونا چاہیے جس میں مختلف خطوں، شعبوں، مقامی برادریوں اور قدیمی مقامی باشندوں کے تجربات اور آرا کو بھی شامل کیا جائے۔

مشہور سمندری مہم جو اور ماحولیاتی کارکن اور معروف سمندری محقق ژاک کوستو کے پوتے فیبیئن کوستو کا کہنا تھا کہ بالآخر ہم سب ایک ہی عالمی برادری کا حصہ ہیں اور ہمیں ایک ہی سمت میں آگے بڑھنا ہو گا۔ اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مل کر کام کرنا ہے۔ 

بصیرت افروز تحقیق

اقوام متحدہ میں نیدرلینڈز کی نائب مستقل مندوب باہیا تہذیب لی نے اس رپورٹ کو عالمی تعاون اور کثیرالفریقی سفارت کاری کے ذریعے عملی اقدامات کے لیے ایک مضبوط رہنما دستاویز قرار دیا۔ اس جائزے کی شریک سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ اب تک سمندروں کے بارے میں تیار کی جانے والی سب سے جامع اور بصیرت افروز عالمی تحقیق ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سمندروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے بحران کے تناظر میں یہ رپورٹ محض سائنسی دستاویز نہیں بلکہ ایک انتباہ بھی ہے۔ اس کا مرکزی پیغام واضح ہے کہ اگر سمندروں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو علم، تعاون اور بروقت اقدامات کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔