ایران جنگ: بحری تجارت میں رکاوٹوں سے دنیا میں شدید غذائی قلت کا خطرہ
مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ سے شروع ہونے والا بحران اب دنیا کے دیگر حصوں میں غذائی تحفظ کے سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ میں بھوک بڑھ رہی ہے اور افغانستان میں غذائی قلت کا علاج کرنے والے طبی مراکز بند ہو رہے ہیں۔
اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی برقرار ہے، تاہم وقفے وقفے سے جاری جھڑپیں اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال رسد کے عالمی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
دنیا میں توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہونے والی اس آبنائے میں کشیدگی کے باعث نقل و حمل اور ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں،جبکہ امدادی کارروائیوں کو پہلے ہی مالی وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکو نے کہا ہے کہ بحران کے آغاز میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات بارے جو خدشات ظاہر کیے گئے تھے وہ اب دنیا کے بعض انتہائی کمزور ممالک میں حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ان خدشات کی تصدیق کرتی ہے کہ اگر حالات بہتر رہے تو تب بھی آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں عالمی اقتصادی نمو کو سست کریں گی، مہنگائی بڑھائیں گی اور عالمی تجارت کو متاثر کریں گی۔ اگر بحران طویل ہوا تو مزید لاکھوں افراد غربت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور ترقی کے میدان میں حاصل ہونے والی کئی برسوں کی کامیابیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔
مہنگی خوراک، بڑھتی بھوک
چند ہفتے قبل 'ڈبلیو ایف پی' نے خبردار کیا تھا کہ اگر جولائی کے دوران تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بلند رہیں تو توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے باہمی تعلق کے باعث مزید ساڑھے چار کروڑ افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ دباؤ اب واضح طور پر بڑھ رہا ہے۔ صومالیہ میں مزید 25 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں، افغانستان میں مزید 23 لاکھ آبادی مزید شدید بھوک کی لپیٹ میں آ گئی ہے جبکہ سری لنکا میں بھی 13 لاکھ افراد اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔
کارل سکو کے مطابق، مختلف ممالک میں اس بحران کی وجوہات مختلف ہیں جن میں خوراک کی بڑھتی قیمتیں، امدادی پروگراموں کے لیے ناکافی وسائل اور امدادی کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات نمایاں ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مشرقی افریقہ میں کاشت کے آئندہ موسم کے دوران زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے مشابہ ہے اور آئندہ مہینوں میں مزید غذائی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔
امدادی ترسیلات میں رکاوٹ
یہ اثرات اب انسانی امداد کی فراہمی کے نظام میں بھی نمایاں دکھائی دینے لگے ہیں۔
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے مطابق، بحری جہازوں کو 'کیپ آف گڈ ہوپ' کے راستے موڑنے کے باعث سامان کی ترسیل میں دو سے چار ہفتوں کی اضافی تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے فضائی راستوں پر سامان ترسیل کرنے کی گنجائش کم ہو گئی ہے اور بندرگاہوں میں بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے جس کے اثرات افریقہ سمیت دیگر خطوں تک پھیل رہے ہیں۔
یونیسف میں نقل و حمل اور انتظام و انصرام کے شعبے کے سربراہ ژاں سیڈرک میئس نے کہا ہے کہ نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے لیے درکار ضروری سامان پر خرچ کرنے کے لیے کم رقم بچتی ہے۔ جو مسئلہ ایک بحری راستے میں رکاوٹ سے شروع ہوا وہ بالآخر ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
غذائی قلت کا بحران
یونیسف کے مطابق، انڈیا سے ایتھوپیا، نائجیریا اور جمہوریہ کانگو بھیجی جانے والی ویکسین کی فضائی ترسیل کے اخراجات میں 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور کانگو کے لیے بھیجے جانے والے غذائیت کے سامان کی ارضی ترسیل کے اخراجات تقریباً ایک تہائی بڑھ گئے ہیں۔ یمن اور موزمبیق کے لیے تعلیمی سامان کی بحری ترسیل کے اخراجات میں 150 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یونیسف کا اندازہ ہے کہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث اہم امدادی سامان کی ترسیل چار سے چھ ماہ تک تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
حالیہ دنوں افغانستان کے دورے سے واپس آنے والے کارل سکو نے بتایا کہ جلال آباد کے قریب ایک دیہی طبی مرکز میں انہوں نے سینکڑوں ماؤں کو شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کے ساتھ واپس جاتے دیکھا کیونکہ وہاں غذائی امداد کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا۔ یہ قلت ایک جانب امدادی وسائل میں کمی اور دوسری طرف رسد میں رکاوٹوں کے باعث پیدا ہوئی جنہوں نے ان راستوں کو بھی متاثر کیا جن کے ذریعے پہلے ہمسایہ ممالک سے سامان پہنچایا جاتا تھا۔
افغانستان اس وقت علاقائی بحران کے معاشی اثرات کے ساتھ اس اضافی دباؤ کا سامنا بھی کر رہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 28 لاکھ پناہ گزین ہمسایہ ممالک سے واپس افغانستان آئے یا بھیجے گئے ہیں۔
غریب ممالک پر بھاری بوجھ
28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے قبل دنیا بھر میں تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔ اس گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور نقل و حمل و رسد کے اخراجات بڑھا دیے۔ اس وقت بھی سیکڑوں بحری جہاز اور ہزاروں ملاح مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی(انکٹاڈ) کی نئی رپورٹ کے مطابق اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ غریب ممالک پر پڑ رہا ہے۔
زیر جائزہ 75 کمزور معیشتوں میں سے 65 خالص تیل درآمد کرنے والے ممالک ہیں۔ ان میں تقریباً ایک ارب افراد آباد ہیں جن میں سے 30 فیصد سے زیادہ لوگ روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی بسر کرتے ہیں۔
ادارے کا اندازہ ہے کہ اگر صاف تیل کی قیمتوں میں مستقل بنیادوں پر 50 فیصد اضافہ برقرار رہا تو ان ممالک کا مجموعی درآمدی بل سالانہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ بعض ممالک، جیسا کہ موریطانیہ، گیمبیا، وینوآتو، مالدیپ اور برکینا فاسو میں یہ اضافی لاگت قومی معیشت کے پانچ فیصد سے بھی زیادہ کے برابر ہو سکتی ہے۔