لبنان بحران کی بڑھتی شدت میں یو این کی ہنگامی امدادی اپیل
اقوام متحدہ نے لبنان میں جنگی بحران سے متاثرہ 14 لاکھ افراد کی مدد کے لیے مزید 33 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کے مالی وسائل فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جہاں انسانی ضروریات مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔
ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار عمران رضا نے بتایا ہے کہ بدھ کو جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ فضائی حملوں میں طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، سرکاری عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، زرعی زمینیں جل گئی ہیں پانی کی تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں اور سکول بے گھر افراد کی پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
تشدد کے حالیہ دور میں اب تک 3,500 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 10,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ آبادی اب بھی بے گھر ہے۔ طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہو رہی ہے۔ بار بار نقل مکانی کے باعث لوگ شدید ذہنی صدمے، مناسب رہائش کی کمی اور اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں کمزور طبقات کی مدد کے لیے امدادی سرگرمیوں میں وسعت لانے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ بحران سے متاثرہ افراد کی اپنی مدد آپ کرنے کی صلاحیتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور بنیادی خدمات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔حالیہ اپیل کے بعد لبنان کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے شراکتی اداروں کی جانب سے اگست تک درکار مجموعی امدادی رقم بڑھ کر 63 کروڑ 99 لاکھ ڈالر ہو گئی ہے۔
خواتین کے لیے بڑھتے خطرات
دیگر تنازعات کی طرح لبنان میں بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو سیبرٹن نے خبردار کیا ہے کہ گنجان پناہ گاہوں میں رازداری، مناسب صفائی ستھرائی اور بنیادی حفاظتی انتظامات کا فقدان ہے۔
انہوں نے قاہرہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ لبنان بھر میں اندازاً 6 لاکھ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مزید برآں، ہر ماہ تقریباً 1,800 خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہوتی ہے لیکن صحت کی سہولتوں پر حملے جاری ہیں اور بنیادی صحت مراکز بند ہو رہے ہیں جس کے باعث خواتین کے لیے زچگی سے متعلق ضروری طبی خدمات تک رسائی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
طبی مراکز اور پناہ گاہوں کا نقصان
اینڈریو سیبرٹن نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں ادارے کے تعاون سے چلنے والا ایک بنیادی طبی مرکز اور خواتین و لڑکیوں کے لیے پناہ گاہ کو فضائی حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ ان چند گنی چنی سہولیات میں شامل تھے جو اس علاقے میں اب بھی کام کر رہی تھیں۔
عمران رضا نے جنوبی لبنان میں نقل مکانی کے طویل المدتی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقرر کردہ فوجی حد کے پار اب بھی تقریباً 28 ہزار افراد موجود ہیں۔
2024 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے بعد تقریباً 68 ہزار افراد جنگ بندی کے باوجود اپنے دیہات واپس نہیں جا سکے تھے۔ یا تو اس لیے کہ وہاں جانا محفوظ نہیں تھا یا ان کے گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔