انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: اسد دور کے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ دریافت، ناکامتسو

Izumi Nakamitsu، تخفیف اسلحہ کے امور کے اعلی نمائندے، نیویارک میں UN سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe تخفیف اسلحہ سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ایزومی ناکامتسو سلامتی کونسل کے ارکان کو اپنی رپورٹ پیش کر رہی ہیں۔

شام: اسد دور کے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ دریافت، ناکامتسو

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ شام میں سابق حکومت کی جانب سے خفیہ رکھے گئے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جو ملک میں باقیماندہ کیمیائی اسلحہ کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش ہے۔

تخفیف اسلحہ سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ایزومی ناکامتسو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کاعالمی ادارہ (او پی سی ڈبلیو) اور شام کی موجودہ حکومت سابق دور میں قائم کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیماندہ عناصر کی نشاندہی اور خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت کی جانب سے 'او پی سی ڈبلیو' کو کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں دی گئی معلومات غلط اور ناکافی تھیں۔ اس حوالے سے سامنے لائے گئے سرکاری اعلامیہ میں جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی مواد اور اسلحے کی بڑی مقدار کا تذکرہ نہیں تھا۔ موجودہ حکومت اس پروگرام کے مکمل حجم اور دائرۂ کار کو سامنے لانے اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق کنونشن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

کیمیائی بم، راکٹ اور آلات

ایزومی ناکامتسو نے اس معاملے میں فریقین کے درمیان جاری تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ کے اوائل میں ادارے نے اپنی خصوصی ٹیم شام بھیجی تھی جس نے ملک کے شمالی اور وسطی ساحلی علاقوں میں واقع کئی اہم اور غیر اعلانیہ مقامات کا دورہ کیا۔ یہ علاقے حمہ، حمص اور لاذقیہ کے اطراف میں واقع ہیں۔

اگرچہ تازہ ترین رپورٹ کی تیاری کے وقت یہ مشن جاری تھا تاہم 'او پی سی ڈبلیو' نے اس دوران غیر اعلانیہ کیمیائی ہتھیاروں، متعلقہ مواد اور دستاویزات کی قابل ذکر مقدار دریافت کی ہے۔

ان دریافتوں میں ایسے کیمیائی گولہ بارود شامل تھے جن کا پہلے کبھی اعلان نہیں کیا گیا تھا اور ان میں فضا سے چلائے جانے والے بم بھی شامل ہیں۔ یہ ویسے ہی بم تھے جو مارچ 2017 میں لطامنہ اور اپریل 2017 میں خان شیخون پر ہونے والے کیمیائی حملوں میں استعمال کیے گئے۔ علاوہ ازیں، ایسے راکٹ بھی برآمد ہوئے جو اگست 2013 میں غوطہ کے کیمیائی حملے میں استعمال ہونے والے راکٹوں سے مماثلت رکھتے تھے۔

دریافت شدہ مواد میں الگ سے محفوظ کیے گئے کیمیائی عامل (ایجنٹس)، متعلقہ آلات اور ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی شامل ہیں جن کا تفصیلی تجزیہ جاری ہے۔

جزوی طور پر ابر آلود آسمان کے نیچے تعمیراتی سائٹ پر کھدائی کرنے والے کے ساتھ حلب، شام میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبہ۔
© UNICEF/Ninja Charbonneau شام کے شہر الیپو میں تباہ حال عمارتیں جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے (فائل فوٹو)۔

تخفیف اسلحہ کا اہم موقع

ایزومی ناکامتسو نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں بھی حکومت کی جانب سے اسی نوعیت کا تعاون ناگزیر ہو گا کیونکہ دریافت شدہ مواد کو اب باضابطہ طور پر رجسٹر کرنا اور 'او پی سی ڈبلیو' کی نگرانی میں تلف کرنا ضروری ہے۔ مزید تحقیقات اور اضافی مقامات کے دورے بھی درکار ہوں گے تاکہ سابقہ حکومت کے تیار کردہ پروگرام کی مکمل نوعیت اور وسعت کا تعین کیا جا سکے۔

ناکامتسو نے اس بات پر زور دیا کہ دریافت ہونے والے تمام کیمیائی اسلحہ اور اس کے اجزا کو محفوظ بنانا اور تلفی تک انہیں محفوظ گوداموں میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ ماہ دریافت ہونے والے ہتھیار پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کیے جا چکے ہیں اور ان کی تلفی کے منصوبوں پر شامی حکومت اور 'او پی سی ڈبلیو' کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلہ تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے نہایت اہم موقع ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان اور عالمی برادری شام کو ہر طرح کے کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں میں مدد کی فراہمی جاری رکھیں۔