انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: گولہ باری میں ایک یو این امن کار ہلاک، دو زخمی

اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے گھر والوں کی خوب حفاظت کی ۔.
UN Photo/Pasqual Gorriz لبنان اسرائیل سرحد پر واقع بلیو لائن پر یونیفیل کے اہلکار گشت میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔

لبنان: گولہ باری میں ایک یو این امن کار ہلاک، دو زخمی

امن اور سلامتی

لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس(یونیفیل) کی چوکی پر مارٹر سے گولہ باری کے نتیجے میں سربیا سے تعلق رکھنے والا ایک امن کار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے محرکات اور حالات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

Tweet URL

امن کاروں کے خلاف تشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولہ باری کس جانب سے کی گئی، تاہم یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے مابین جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے۔ 

یونیفیل نے خبردار کیا ہے کہ امن کاروں کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

امن کی راہ میں قربانی

اطلاعات کے مطابق، حملے میں بری طرح زخمی ہونے والے سربیا کے امن کار کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بیروت کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

یونیفیل نے ملک میں قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے اس اہلکار کے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمی اہلکاروں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

فورس نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں حالیہ عرصہ کے دوران گولہ باری اور میزائل حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حملوں کا خوف اور نقل مکانی 

اطلاعات کے مطابق، حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت لبنان میں آزمائشی بنیاد پر ایسے علاقے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جہاں لبنان کی فوج کا مکمل کنٹرول ہو گا۔ حزب اللہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

2 مارچ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جاری کشیدگی کے باعث لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگ مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف) نے بتایا ہے کہ جنوبی بیروت کے متعدد خاندان حملوں کے خوف سے اپنے گھروں میں مستقل طور پر رہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ادارے کے ترجمان کرسٹوف بولیراک نے یو این نیوز بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگ دن کے وقت اپنے گھروں کا جائزہ لینے آتے ہیں، لیکن رات ہونے سے پہلے واپس چلے جاتے ہیں کیونکہ انہیں حملوں کا خوف رہتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ یکم جون کو اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری کردہ انخلا کے حکم کے بعد جنوبی مضافاتی علاقوں سے تقریباً دو لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔