انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تحفظ ماحول کے کارکنوں کے عدم تحفظ پر وولکر ترک کو تشویش

چار نوجوان خواتین شہر کی ایک گلی میں کھڑی ہیں، جو ہاتھ پکڑ کر اور "آب و ہوا کے انصاف" کے لیے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔
Courtesy of Xiye Bastida گزشتہ تین برس کے دوران دنیا بھر میں ماحولیات اور زمین سے متعلق حقوق کے لیے کام کرنے والے تقریباً 600 کارکن قتل کر دیے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔

تحفظ ماحول کے کارکنوں کے عدم تحفظ پر وولکر ترک کو تشویش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ماحولیاتی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو موثر تحفظ فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران دنیا بھر میں ایسے سیکڑوں کارکن قتل، لاپتہ یا گرفتار ہو چکے ہیں۔

انہوں نے فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں ماحولیاتی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے پہلے یورپی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تیزی سے بلند ہو رہا ہے جبکہ بڑھتے ہوئے سیلاب، سکڑتے گلیشیئر اور شدید گرمی کی لہریں ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

Tweet URL

یورپ میں شدید موسمی حالات ہر سال موسم گرما میں ہزاروں افراد کی جان لے لیتے ہیں۔ پورے براعظم میں شہری علاقوں کے 95 فیصد باشندے آلودہ اور غیر محفوظ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں جبکہ 80 فیصد سے زیادہ قدرتی مساکن خراب یا انتہائی خراب حالت میں ہیں جبکہ ایسے حالات میں تحفظ ماحول کے کارکنوں کا کردار کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

ماحولیاتی انصاف کی تحریک

وولکر ترک نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے، لوگوں کو متحرک کرنے اور زمین، مقامی آبادیوں اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی انصاف کی تحریک انسانی حقوق کے لیے ایک طاقتور اتحاد ہے جو سائنس، قانون، اخلاقیات، فلسفے اور فن کو یکجا کرتا ہے۔ یہ ایسا اتحاد ہے جسے منصفانہ مقابلے میں شکست نہیں دی جا سکتی۔

اسی لیے مخالفین بعض اوقات ظالمانہ اور غیر دیانت دارانہ ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو قتل، اغوا اور گرفتار کرتے ہیں اور ایسے قوانین کو بھی ہتھیار بنا لیتے ہیں جو دراصل انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ 

600 کارکنوں کا قتل

ہائی کمشنر نے بتایا کہ ان کے دفتر کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران دنیا بھر میں ماحولیات اور زمین سے متعلق حقوق کے لیے کام کرنے والے تقریباً 600 کارکن قتل کر دیے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ کم از کم 55 ممالک میں ایسے کارکنوں کو ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، اگرچہ یورپ کے بہت سے ممالک اپنے بلند عزائم پر مبنی ماحولیاتی اور موسمیاتی اہداف پر فخر کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود کئی جگہوں پر ایسے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں جو پرامن احتجاج کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک اور چونکا دینے والی بات ہے کہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کے خلاف ایسے قوانین استعمال کیے جا رہے ہیں جو دہشت گردی اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی کارکنوں کی سلامتی یقینی بنائیں، ان کے حقوق کی پامالیوں کے مرتکب افراد کا محاسبہ کریں، عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور ماحولیاتی حقوق کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے مضبوط علاقائی نظام قائم کریں۔