زہریلی خوراک سے ہر سال 15 لاکھ اموات، ڈبلیو ایچ او رپورٹ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر سال 15 لاکھ لوگ غیر محفوظ اور آلودہ خوراک کھانے کے نتیجے میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ خوراک سالانہ 86 کروڑ 60 لاکھ افراد کو بیمار کرتی ہے اور اس سے انسانی صحت، ترقی اور کمزور معیشتوں پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
7 جون کو منائے جانے والے تحفظ خوراک کے عالمی دن سے قبل اس مسئلے پر 'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچے آلودہ خوراک سے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگرچہ بچے دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف نو فیصد ہیں لیکن خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہونے والوں میں ایک تہائی تعداد انہی کی ہے۔ ایسی بیماریوں میں شدید اسہال بھی شامل ہے جو جان لیوا ثابت بھی ہوتا ہے۔
خوراک کے ذریعے سیسہ اور میتھائل مرکری جیسے کیمیائی مادوں کی جسم میں منتقلی بچوں کے نمو پاتے دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ان میں زندگی بھر رہنے والے اعصابی اور ذہنی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ خوراک کا تحفظ ہر کھانے، ہر خاندان اور روزمرہ زندگی سے جڑا مسئلہ ہے۔ غیر محفوظ خوراک ہمیشہ سے صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ رہی ہے، لیکن اب تک اس کے انسانی اور معاشی نقصانات کی مکمل تصویر موجود نہیں تھی۔
کیمیائی آلودگی سے اموات
رپورٹ کے مطابق، خوراک سے منتقل ہونے والے بیکٹیریا، وائرس اور طفیلیے بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں جنہوں نے 2021 میں ہی تقریباً 86 کروڑ لوگوں کو بیمار کیا۔ تاہم غیر محفوظ خوراک سے ہونے والی زیادہ تر اموات کا سبب ان میں پائی جانے والی کیمیائی آلودگی تھی۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، 2021ء میں آلودہ خوراک سے ہونے والی 73 فیصد اموات کے معاملے میں غیر نامیاتی آرسینکاور سیسہ سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئے کیونکہ ان کے طویل المدتی اثرات دل کی بیماریوں اور مختلف اقسام کے سرطان کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ صرف ایک سال کے دوران یہ دونوں مادے 10 لاکھ سے زائد اموات سے منسلک پائے گئے۔
جب آرسینک، سیسہ یا میتھائل مرکری جیسے کیمیکل خوراک کی سپلائی چین میں شامل ہو جائیں تو انہیں مکمل طور پر ختم کرنا عموماً انتہائی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔
بھاری معاشی نقصان
رپورٹ کے مطابق، آلودہ خوراک کے تقریباً تین چوتھائی مریضوں کا تعلق افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے جبکہ 60 فیصد اموات بھی انہی دو خطوں میں ہوتی ہیں۔ بچے اور غریب آبادیوں میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جس سے خوراک کے نظام، صحت کی سہولتوں اور صفائی ستھرائی تک رسائی میں موجود مستقل عدم مساوات کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ 2021ء میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث کام سے غیر حاضری اور پیداواری صلاحیت میں کمی تقریباً 310 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سبب بنی۔ مختلف ممالک میں معیار زندگی اور اخراجات کے فرق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ نقصان بڑھ کر تقریباً 647 ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
طبی جریدے 'دی لینسٹ' میں میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی مصنفہ اور 'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ تحفظ خوراک کی تکنیکی افسر یوکی میناتو نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ انتباہ بھی ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مزید سنگین صورت اختیار کر رہی ہیں کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت غذائی آلودگی کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح، جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت انفیکشن کے علاج کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے نتائج رکن ممالک کو تحفظ خوراک سے متعلق موثر حکمت عملی مرتب کرنے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں کا باہمی تعاون بڑھانے میں مددگار ہوں گے۔
یوکی میناتو نے خبردار کیا ہے کہ ایسے معاملے میں تاخیری اقدامات کی قیمت انسانی زندگیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔