لبنان: ہسپتال پر حملے میں طبی عملے سمیت 86 افراد زخمی، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں طبی مراکز پر حملے تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ سوموار کو ایک ہسپتال پر بمباری میں 86 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ملک میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر عبد الناصر ابوبکر نے بتایا ہے کہ جبل عامل ہسپتال پر حملوں کے نتیجے میں ایمرجنسی وارڈ اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ جنوبی لبنان کے ان چند ہسپتالوں میں شامل ہے جو اب بھی فعال ہیں۔
ادارے کے مطابق، گزشتہ تین ماہ کے دوران صحت کے شعبے پر تقریباً 190 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 128 طبی کارکن ہلاک اور 332 زخمی ہوئے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ہی ایسے 11 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالناصر نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جھڑپوں سے ضلع صور کا طبی نظام سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں تین ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان حالات میں ضروری طبی خدمات تک رسائی انتہائی محدود ہو چکی ہے اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں مریضوں کو کسی بڑے ہسپتال تک پہنچنے میں 48 گھنٹے تک تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ
ڈاکٹر ابوبکر نے مزید بتایا کہ چھ ہسپتال اب تک زچگی کی خدمات بحال نہیں کر سکے اور صرف ہنگامی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں خواتین اور نومولود بچوں کے لیے علاج میں تاخیر ہلاکتوں ک سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے ان پناہ گاہوں میں صحت عامہ کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جہاں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے حالیہ احکامات کے بعد نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' پناہ گاہوں اور مہاجرین کی میزبان آبادیوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کی نگرانی کر رہا ہے جہاں شدید اسہال کے پھیلاؤ میں اضافے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر نے خبردار کیا ہے کہ موسم گرما میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ضروریات امدادی سرگرمیوں کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں اس لیے بنیادی طبی خدمات کے لیے مالی وسائل کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہے۔
جنگ بندی کا مطالبہ
انہوں نے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی مراکز پر حملے فوری طور پر روکے جانا چاہییں اور طبی اداروں کو موثر تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
2 مارچ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک لبنان میں تقریباً 3,400 افراد ہلاک اور 10,400 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان 17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم دونوں فریق اس پر مکمل طور پر عملدرآمد میں ناکام رہے ہیں۔