انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ال نینو سے درجہ حرارت اور موسمی شدت میں اضافہ متوقع، ڈبلیو ایم او

بولیناو، پانگاسینان میں غروب آفتاب کے وقت ایک نچلی لہر والے ساحل پر لوگوں کے سلیوٹس کھڑے ہیں، جن میں بادل اور ان کے عکس پانی میں نظر آ رہے ہیں۔
© WMO/Aster Niel Abellano جون سے اگست کے درمیان ال نینو کی صورتحال پیدا ہونے کا 80 فیصد امکان ہے۔

ال نینو سے درجہ حرارت اور موسمی شدت میں اضافہ متوقع، ڈبلیو ایم او

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موسمی شدت سے متعلق بروقت اطلاعات کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں کیونکہ بحر الکاہل میں گرمی کا دور (ال نینو)  آنے کو ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے تمام خطوں میں درجہ حرارت معمول سے بڑھ جائے گا۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، جون سے اگست کے درمیان ال نینو کی صورتحال پیدا ہونے کا 80 فیصد امکان ہے جبکہ اس کے بعد یہ امکان 90 فیصد تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔

Tweet URL

ادارے کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ال نینو کرہ ارض کے موسمی نظام کو  متاثر کرنے والا بڑا عنصر ہے۔ اس کے اثرات بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے بلکہ زراعت، توانائی کی فراہمی، تجارت، آبی وسائل، سپلائی چین اور لاکھوں لوگوں کے روزگار و معاش پر بھی پڑتے ہیں۔ 

بحرالکاہل کے استوائی علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت اوسط سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ حالیہ ال نینو اضافی حدت سے مزید طاقت پکڑ کر دنیا بھر میں کمزور لوگوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ 24-2023 کا ال نینو اب تک کے ریکارڈ گرم ال نینو واقعات میں شامل تھا اور اس کا 2024 میں ریکارڈ عالمی درجہ حرارت میں بھی اہم کردار رہا۔

'ڈبلیو ایم او' کے مطابق، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ال نینو کی تعداد یا شدت میں اضافہ کرتی ہے، تاہم یہ اس کے اثرات کو زیادہ شدید ضرور بنا سکتی ہے کیونکہ گرم سمندر اور فضا شدید موسمی واقعات جیسا کہ گرمی کی لہروں اور موسلا دھار بارشوں کے لیے زیادہ توانائی اور نمی فراہم کرتے ہیں۔

موسمی انتباہی نظام کی اہمیت

سیلیسٹ ساؤلو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ال نینو کے بارے میں خاطرخواہ آگاہی موجود ہے اور سائنسی ترقی کی بدولت اب اس کے لیے پہلے سے کہیں بہتر انداز میں تیاری کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ال نینو کے ساتھ دیگر شدید موسمی واقعات بھی رونما ہوتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اور مسلسل سرمایہ کاری درکار ہے۔

آئندہ مہینوں میں 'ڈبلیو ایم او' اور دنیا بھر کے موسمیاتی ادارے موسمی حالات کی مسلسل نگرانی کریں گے تاکہ حکومتوں، امدادی اداروں اور موسم سے متاثر ہونے والے مختلف شعبوں کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں اور وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔

سیلیسٹ ساؤلو نے واضح کیا ہے کہ موسمی پیش گوئیاں اور انتباہی نظام زندگیاں بچانے اور معیشتوں اور معاشروں پر حدت کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ال نینو کیا ہے؟

ال نینو ایک موسمی کیفیت ہے جس کا شمار زمین کے طاقتور ترین قدرتی موسمی مظاہر میں ہوتا ہے۔

یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت عموماً ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتی ہے اور تقریباً نو سے بارہ ماہ تک برقرار رہتی ہے۔

عام طور پر اس کی تشکیل مارچ سے جون کے درمیان شروع ہوتی ہے جبکہ اس کی شدت نومبر سے فروری کے دوران اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ عالمی درجۂ حرارت پر اس کے اثرات عموماً اس کے آغاز کے بعد دوسرے سال میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔