انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ میں شدت پر اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے کمرے کا وسیع منظر، جس میں نمائندے ایک بڑی گول میز کے گرد بیٹھے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر۔

سلامتی کونسل: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ میں شدت پر اجلاس

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ لبنان کی حدود میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے جس سے شہریوں کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی معاون سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی نے کونسل کو لبنان کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2 مارچ سے جاری کشیدگی اور لڑائی بڑے پیمانے پر تباہی لائی ہے۔ اس دوران ملک میں 3,412 افراد ہلاک اور 10,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ چار اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ 

اس کشیدگی کے باعث بلیو لائن کے دونوں جانب آبادیاں متاثر ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال نہایت سنگین اور تشویش ناک ہے۔ اس سے نہ صرف 16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے معاہدے کو براہ راست نقصان ہو رہا ہے بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری دیگر نازک سفارتی کوششیں بھی کمزور پڑ رہی ہیں۔

معاون سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کے لیے مناسب موقع اور وقت دیا جانا چاہیے جبکہ مزید کشیدگی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مارتھا اما آکیا پوبی نے سلامتی کونسل کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بحالی پر بریفنگ دی۔
UN Photo/Eskinder Debebe قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی معاون سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی (فائل فوٹو)۔

حزب اللہ سے ہتھیار چھوڑنے کا مطالبہ

مارتھا پوبی کا کہنا تھا کہ بلیو لائن کے شمال میں اسرائیلی فوج کی موجودگی لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے بھی منافی ہے۔

حزب اللہ اور لبنان میں موجود دیگر غیر ریاستی مسلح گروہوں کو ہتھیار رکھ دینے چاہییں اور ریاستی رٹ قائم کرنے اور حکومتی اختیار کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

لبنانی مسلح افواج ہی ملک کی واحد جائز مسلح قوت ہیں۔ ملکی فوج اور دیگر ریاستی سکیورٹی اداروں کی بین الاقوامی معاونت میں فوری اضافہ کیا جانا ضروری ہے تاکہ وہ ملک بھر میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں انسانی امداد کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ گھروں، بنیادی سہولتوں اور شہری تنصیبات کی مسلسل تباہی پہلے سے سنگین بحران کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

بیروت، لبنان کے بسطہ محلے میں رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں، جس میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد وسیع پیمانے پر کھنڈرات اور ملبہ دکھائی دے رہا ہے۔
© UNICEF/Fouad Choufany اسرائیلی حملے کے بعد بیروت کے علاقے بسطہ میں تباہی کا ایک منظر۔

متحارب فریقین سے تحمل کی اپیل

مارتھا پوبی نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو کشیدگی کے دیرپا خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

انہوں نے حزب اللہ پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اس تنظیم کو لبنان کی ریاستی کوششوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ کریں تاکہ اسلحے پر حکومت کا مکمل اور واحد اختیار قائم ہو سکے۔

انڈر سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی افواج لبنانی سرزمین سے واپس بلائے اور ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔ انہوں نے شہری آبادی کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو کسی صورت عسکری کارروائیوں کا نشانہ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا: اقوام متحدہ کے عملے اور عمارتوں کو بھی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور ادارے کی تنصیبات اور دفاتر کے تقدس اور تحفظ کو ہر حال میں برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔