دستی اسلحہ کا بڑھتا پھیلاؤ امن کے لیے ایک نیا چیلنج، یو این
جنگیں ختم ہو جائیں تو تب بھی ان میں استعمال ہونے والے ہتھیار باقی رہتے ہیں جو سرحدوں کے پار پہنچتے، جرائم کو ہوا دیتے اور امن کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ اب 'غیر مرئی ہتھیار' اور 'تھری ڈی پرنٹڈ' اسلحہ دنیا بھر کے لیے نئے مسائل لا رہا ہے۔
اسی مسئلے پر دنیا بھر سے مندوبین رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ غیر قانونی آتشیں اسلحہ کے عالمگیر پھیلاؤ کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس موقع پر ہونے والے مباحثوں کا مرکزی موضوع نئی ٹیکنالوجی ہے جس کے بارے میں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس کی بدولت غیر قانونی ہتھیار بنانا آسان اور ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تخفیف اسلحہ سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ایزومی ناکامتسو نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'غیر مرئی ہتھیار' تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہیں۔ یہ ایسے آتشیں ہتھیار ہیں جو مختلف پرزوں یا کٹس کو جوڑ کر تیار کیے جاتے ہیں اور ان پر کوئی سیریل نمبر موجود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
اسی طرح، تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ اس کی مدد سے ہتھیاروں کے پرزے اور بعض صورتوں میں مکمل اور قابل استعمال آتشیں اسلحہ بھی روایتی اور ضابطہ جاتی نظام سے باہر تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسے ہتھیار یا ان کے پرزے الگ کر کے سمگل کیے جائیں تو ان کا سراغ لگانا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
طویل المدتی خطرات
چھوٹے ہتھیاروں میں پستول، ریوالور اور اسالٹ رائفلیں وغیرہ شامل ہیں جنہیں کوئی فرد باآسانی استعمال کر سکتا ہے۔ ہلکے ہتھیاروں میں گرینیڈ لانچر، مشین گنیں اور قابل نقل و حمل فضائی یا ٹینک شکن نظام شامل ہوتے ہیں جنہیں چند افراد پر مشتمل عملہ چلا سکتا ہے۔
چونکہ یہ ہتھیار نسبتاً سستے، مضبوط اور استعمال میں آسان ہوتے ہیں اس لیے کئی دہائیوں تک کارآمد رہ سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو گولہ بارود ہے جس کی مسلسل دستیابی کے باعث ان ہتھیاروں کا تنازعات، جرائم اور دہشت گردی میں استعمال جاری رہتا ہے۔
لیبیا ایسے ہتھیاروں سے لاحق مسائل کی نمایاں مثال ہے جہاں 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہونے والے مسلح تنازع کے دوران یا اس کے بعد لوٹے یا غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے ہتھیار پورے ساہل خطے میں پھیل گئے۔
یہ ہتھیار نیجر، برکینا فاسو اور نائجیریا تک پہنچے اور ان میں سے کچھ شدت پسند گروہوں کے قبضے میں بھی پائے گئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی ایک ملک کے تنازع میں استعمال ہونے والے ہتھیار برسوں بعد ہمسایہ ممالک کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ناجائز اسلحہ اور قتل و غارت
اس مسئلے کے اثرات مختلف خطوں میں مختلف نوعیت کے ہیں لیکن انہیں تقریباً ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں غیر قانونی آتشیں اسلحہ کا منظم جرائم سے گہرا تعلق ہے اور اسی خطے میں قتل و غارت کی شرح بلند ترین ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس خطے کے بعض حصوں میں 70 تا 80 فیصد پرتشدد اموات میں آتشیں اسلحہ کا کردار ہوتا ہے۔
افریقہ کے بعض علاقوں میں چھوٹے ہتھیاروں کی بہتات امن سازی کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہے۔ مسلح گروہوں، ملیشیاؤں یا اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھنے والے لوگوں کے پاس اسلحہ دوبارہ تشدد اور عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اقدامات
چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں سے لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 2001ء میں ایک پروگرام کی منظوری دی جس کے تحت ملکی سطح پر قوانین کو مضبوط بنانے، اسلحہ کے ذخائر کی بہتر حفاظت، غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کا عہد کیا گیا۔
2005ء میں 'انٹرنیشنل ٹریسنگ انسٹرومنٹ' کی منظوری ایک اور اہم پیش رفت تھی جس کے ذریعے ہتھیاروں کی نشاندہی، ریکارڈنگ اور سراغ رسانی کے لیے عالمی معیارات متعین کیے گئے۔ اس نظام کی مدد سے تفتیش کار یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ غیر قانونی ہتھیار کہاں سے آئے اور کس طرح غیر قانونی منڈیوں تک پہنچے جبکہ قانونی ذخائر سے ان کے غیر قانونی استعمال میں جانے کے خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ رکن ممالک کو اس معاملے میں تکنیکی معاونت، پالیسی سے متعلق رہنمائی اور استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کے ذریعے مدد فراہم کرتا ہے۔
چھوٹے ہتھیار، بڑی تباہی
غیر قانونی ہتھیاروں کے اثرات صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، دہشت گردی اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد جیسے سنگین مسائل سے بھی جڑے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ چھوٹے ہتھیار ہی درحقیقت دنیا کے لیے تباہ کن اسلحہ ہیں کیونکہ یہی بڑے پیمانے پر لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
درحقیقت یہ مسئلہ صرف مہلک ہتھیاروں کا نہیں، بلکہ تشدد میں کمی لانے لوگوں کے تحفظ اور تنازعات کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کا بھی ہے۔
ایزومی ناکامتسو کے مطابق، اگر غیر قانونی آتشیں اسلحہ کی گردش کو کم کر دیا جائے تو دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہر معاشرے میں چھوٹے ہتھیاروں پر مناسب کنٹرول اور ضابطہ ہونا چاہیے۔ اس طرح ہر فرد کی زندگی زیادہ محفوظ اور پرامن ہو جائے گی۔