انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے مظالم پر اظہار تشویش

سلوان، مغربی کنارے میں کثرت سے بھری ہوئی عمارتوں کا فضائی نظارہ، جس میں بڑی آنکھوں کی دیواریں اور اسرائیلی جھنڈے نظر آتے ہیں، جس سے پڑوس کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی مناظر پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
United Nations فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں ان کے علاقے سلوان سے زبردستی بیدخل کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو)۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے مظالم پر اظہار تشویش

انسانی حقوق

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے 14 غیرجانبدار ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں فلسطینیوں کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہیں۔

ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نوآبادیاتی آبادکاری کی تحریک سے وابستہ اسرائیلیوں کے مسلسل حملے اسرائیلی ریاست کی حمایت اور چشم پوشی کے ساتھ جاری ہیں۔ ان حملوں سے خوف، بداعتمادی اور شدید عدم تحفظ کی فضا نے جنم لیا ہے جس کا ناگزیر نتیجہ فلسطینی آبادی کی اپنے علاقوں سے جبری بے دخلی کی صورت میں نکل رہا ہے۔

Tweet URL

مکمل استثنٰی اور جواب طلبی کے فقدان کے ساتھ یہ بڑھتا ہوا تشدد قابض طاقت کی جانب سے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اسے نسلی تطہیر میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ فلسطینیوں کی مسلسل بے دخلی کے نتیجے میں تقریباً 663 مربع کلومیٹر مزید علاقہ آبادکاری کی توسیع کے لیے کھل جائے گا جبکہ وادی اردن اور جنوبی ہیبرون کی پہاڑیوں میں واقع فلسطینی بستیاں خاص طور پر خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تشدد کو سوچے سمجھے اور منظم طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کو بنیادی سہولتوں، زرعی اراضی اور چراگاہوں تک رسائی سے محروم کر کے بالآخر انہیں اپنی زمین سے کاٹ دیا جائے۔

ام الخیر گاؤں کی المناک مثال

ماہرین نے جنوبی ہیبرون کی پہاڑیوں میں واقع گاؤں ام الخیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جگہ اب کارمل اور ایک نئی آباد کار چوکی کے نرغے میں آ چکی ہے جس کی تعمیر گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اس گاؤں کے مکین بارہا پانی اور بجلی کی فراہمی روکے جانے، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک کارکن کو مبینہ طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل ایک آبادکار نے تعمیراتی منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوران قتل کیا جس کے بعد گاؤں کے باشندوں کو حقوق کی مزید پامالیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس میں ناجائز گرفتاریاں، تشدد، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، زرعی زمینوں، آبی ذرائع اور چراگاہوں کی بربادی اور بچوں کے خلاف منظم حملے شامل ہیں۔

اسرائیل کی قانونی ذمہ داریاں

بیان میں ماہرین نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث بین الاقوامی توجہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری زمینی حقائق سے ہٹ گئی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام یا مذمت نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل فلسطینیوں کے حق خودارادیت کوناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی میں سہولت فراہم کرنا بند کرے اور غیرقانونی بستیوں اور چوکیوں کو دی جانے والی مالی، عسکری، قانونی اور سیاسی حمایت بند  کرے۔

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ فلسطینیوں پر حملے کرنے والے آبادکاروں کا احتساب کیا جائے، فلسطینی برادریوں کو موثر تحفظ فراہم کیا جائے، بے دخل کیے گئے لوگوں کی محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں اپنے رہائشی و زرعی علاقوں اور چراگاہوں تک مکمل رسائی دی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مغربی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ بین الاقوامی قانون کی رو سے واضح طور پر غیرقانونی ہے، اس کے باوجود وہ جنیوا کنونشن کے تحت قابض طاقت کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے جن میں فلسطینیوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ آبادی کا درجہ دینا بھی شامل ہے۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔