جنگ زدہ جنوبی لبنان میں امن کے لیے مذاکرات کو موقع دیا جائے، یو این
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینین ہینز پلاشرٹ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا جنوبی علاقہ جل رہا ہے اور دارالحکومت بیروت کی سڑکیں نقل مکانی کرنے والے لوگوں سے بھری ہیں۔ متحارب فریقین کی جانب سے 'فتح' کے حصول پر اصرار نے اس انسانی المیے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں اور سخت گیر بیانات کے باعث صورتحال روز بروز ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
مزید فضائی حملے یا ڈرون کارروائیاں صرف ایسی فتوحات کا باعث بنیں گی جن کی قیمت بہت بھاری ہو گی اور عام شہریوں کو چکانا پڑے گی۔ ان حالات میں امن کے لیے بات چیت کو کامیاب ہونے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
شدید انسانی بحران کا خطرہ
عالمی پروگرام برائے خوراک(ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ لبنان شدید انسانی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بڑھتے ہوئے غذائی عدم تحفظ کا امتزاج خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔
ادارے کے مطابق، 10 لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کے بعد بے گھر ہیں جبکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ، آمدنی میں کمی اور منڈیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث خوراک کمزور اور غریب خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ادارے نے ملک بھر میں اپنی امدادی سرگرمیوں میں تیزی سے توسیع کی ہے، تاہم صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ انسانی امداد تک مسلسل رسائی، ضروری اشیا کی فراہمی کے مستحکم نظام اور قابل اعتماد مالی وسائل کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ ضرورت مند لوگوں کی مدد جاری رکھی جا سکے۔
'ڈبلیو ایف پی' کے اقدامات
ادارے نے بتایا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان بھر میں جنگ سے متاثرہ سات لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہنگامی غذائی امداد اور نقد مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔
تنازع میں شدت آنے کے بعد ادارہ روزانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ افراد کی مدد کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بے گھر افراد کے مراکز میں مقیم خاندانوں کو گرم کھانا اور راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔
'ڈبلیو ایف پی' نے جنوبی لبنان کے علاوہ ثوراور حرمل سمیت ان علاقوں میں 24 انسانی امدادی قافلے روانہ کیے ہیں جہاں رسائی محدود تھی۔ تاہم، نقل و حرکت کو لاحق خطرات اور رسائی کی دشواریوں کے باعث مطلوبہ قافلوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ کو موخر یا منسوخ کرنا پڑا۔
امدادی وسائل کی ضرورت
ادارے نے بتایا ہے کہ روزانہ کی گولہ باری، انخلا کے احکامات اور جھڑپوں کے باعث امدادی تنظیموں کی رسائی مزید دشوار ہو گئی ہے اور لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حالات خاص طور پر دور دراز علاقوں تک ضروری امداد پہنچانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
'ڈبلیو ایف پی' نے واضح کیا ہے کہ روال سال مئی سے اگست کے دوران ضروری امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے 11 کروڑ 20 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ اگر مناسب اور قابل بھروسہ مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو لبنان میں کمزور اور ضرورت مند خاندانوں کو ہنگامی خوراک اور نقد امداد فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔