انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایبولا کا شکار نرسوں کی صحتیابی حوصلہ افزاء خبر، ڈبلیو ایچ او

ڈیموکریٹک کانگو میں بونیا ہوائی اڈے پر ایبولا کی ایمرجنسی ریسپانس سپلائی کی ترسیل کے دوران سفید ہیزمیٹ سوٹ پہنے ہوئے دو صحت کارکن ایک ہوائی جہاز کے کھلے کارگو دروازے پر کھڑے ہیں۔
© UNICEF/Carmel Ndomba Mbikayi ایبولا سے بری طرح متاثرہ صوبہ ایتوری کے شہر بونیا کے ہوائی اڈے پر ادویات اور دوسرا امدادی سامان اتارا جا رہا ہے۔

ایبولا کا شکار نرسوں کی صحتیابی حوصلہ افزاء خبر، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج کے نتیجے میں ایبولا وائرس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ وبا کے گڑھ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں اس مرض کا شکار ہونے والی چار نرسوں کو صحت یابی کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر پانچ افراد ایبولا سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں جن میں ایک لیبارٹری کارکن بھی شامل ہے جسے گزشتہ جمعرات کو صحت مند قرار دیا گیا تھا جو کہ حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

Tweet URL

ایبولا کی حالیہ وبا اس کی بنڈی بگیو قِسم سے پھیلی ہے جس کے لیے نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔ ادارے کے مطابق، یہ ایسی بیماری ہے جو عام طور پر مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔

اتوار تک کانگو میں ایبولا کے 210 تصدیق شدہ مریض سامنے آ چکے تھے، جبکہ 17 اموات کی بھی تصدیق ہو چکی تھی۔ علاوہ ازیں، تقریباً 350 مشتبہ مریضوں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ حالیہ وبا کے دوران 16 طبی کارکن بھی ایبولا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ویکسین اور دواؤں کی تیاری

'ڈبلیو ایچ او' نے وبا سے بری طرح متاثرہ صوبہ ایتوری کے شہر بونیا میں ایک جدید اور مرمت شدہ ایبولا مرکزِ علاج مقامی طبی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ اس مرکز میں 24 بستروں کی سہولت موجود ہے جس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ بنڈی بگیو وائرس کے خلاف فی الوقت کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں، تاہم 'ڈبلیو ایچ او' کے ماہرین نے کئی ممکنہ ادویات اور ویکسین کی آزمائش کے لیے سفارش کی ہے۔ ادارہ اس سلسلے میں کانگو اور ہمسایہ ملک یوگنڈا کے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

تصدیق شدہ مریضوں کے علاج کے لیے تین ممکنہ ادویات کو کلینیکل ٹرائلز کے لیے ترجیح دی گئی ہے۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے منہ کے ذریعے لی جانے والی 'اوبیلڈیسیویر' نامی اینٹی وائرل دوا کو تحقیقی جائزے کے تحت ایسے افراد کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے جو متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے ہوں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دو ممکنہ ویکسین بھی شناخت کر لی گئی ہیں جن کا جائزہ اس وقت لیا جائے گا جب ان کی خوراکیں دستیاب ہوں گی۔

امید کی گنجائش

ادارے نے کہا ہے کہ کہ ایبولا کی وبا میں شرح اموات عموماً 30 سے 50 فیصد کے درمیان رہتی ہے۔ وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے مقامی آبادی اور عالمی برادری کا تعاون نہایت اہم ہے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بونیا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اچھے طبی علاج کی مدد سے اس بیماری سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ایتوری میں بعض افراد پہلے ہی صحت یاب ہو چکے ہیں۔ بروقت علاج سے واقعی بڑا فرق پیدا ہوتا ہے اور اسی لیے امید کی گنجائش موجود ہے۔