انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: لڑکیوں کی خاموشی کا مطلب شادی کی قبولیت نہیں، یو این کمیٹی

تین افغان لڑکیاں افغانستان کے صوبہ ہرات کے ضلع انجیل میں واقع گاؤں شاد بارہ میں مٹی کی دیوار پر ٹیک لگائے کھڑی ہیں۔
© UNDP/S. Omer Sadaat کم عمری کی شادی بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

افغانستان: لڑکیوں کی خاموشی کا مطلب شادی کی قبولیت نہیں، یو این کمیٹی

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے افغان حکام کی جانب سے ایک نئے حکم نامے کے اجرا پر مذمت اور تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں کم عمری کی شادی کو قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے اور اس کے تحت لڑکی کی خاموشی کو شادی کے لیے رضامندی تصور کیا جائے گا۔

کمیٹی نے اس حکم کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین اور منظم خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے فرد کی شادی نقصان دہ رسم اور جبری شادی کے مترادف ہے کیونکہ بچے فطری طور پر اس قابل نہیں ہوتے کہ شادی کے لیے مکمل، آزادانہ اور باخبر رضامندی دے سکیں۔

Tweet URL

افغان حکام کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ 18 میں بلوغت کو پہنچنے والی اور شادی شدہ لڑکیوں کو الگ زمرے میں رکھا گیا ہے اور اسی بنیاد پر بلوغت کے بعد لڑکیوں کی شادی کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بالغ ہو جانے والی لڑکی کی خاموشی کو شادی کے لیے اس کی رضامندی سمجھا جا سکتا ہے۔

بلوغت کی غلط تشریح

کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ بلوغت کو نہ تو بالغ ہونے کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے شادی کی قانونی اہلیت کا معیار بنایا جا سکتا ہے۔ افغان قانون کی یہ شق بچوں کے حقوق کے کنونشن سے سراسر متصادم ہے۔

کم عمری کی شادی بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے نتیجے میں لڑکیاں تشدد، استحصال، کم عمری میں اور جبری حمل، تعلیم کے تعطل اور طویل المدتی جسمانی و نفسیاتی نقصانات کے خطرات سے دوچار ہو جاتی ہیں۔

بچوں کی شادی کو معمول بنانے یا اس کے لیے سہولت پیدا کرنے والا کوئی بھی قانون ان کے حقوق کی پامالی، انسانی وقار کو مجروح کرنے اور انہیں اپنی خودمختاری اور بہتر مستقبل کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے۔

لاکھوں لڑکیوں کا نقصان

بچوں کے حقوق سے متعلق 18 غیرجانبدار ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ حکم نامہ طالبان حکام کی جانب سے اختیار کیے گئے امتیازی اقدامات کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے جن میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی بھی شامل ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات نے لاکھوں افغان لڑکیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے، معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت کے امکانات کو کمزور کیا ہے اور پورے ملک میں غربت اور عدم مساوات کو مزید شدید بنا دیا ہے۔

کمیٹی نے افغانستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی تمام قوانین و ضوابط واپس لیں، کم عمری کی شادی پر واضح پابندی عائد کریں اور تمام لڑکیوں کے لیے تعلیم، تحفظ، مساوات اور معاشرتی زندگی میں مکمل شرکت کے حقوق بحال کریں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور اس کے اختیاری ضوابط کے تحت ایسا کرنا افغانستان کے حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔