انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: کچرا چننے والے محنت کشوں کو حقوق دلانے کا تربیتی منصوبہ

پیلے رنگ کی جیکٹیں اور چہرے کے ماسک پہنے ہوئے خواتین ایک ری سائیکلنگ سینٹر میں پلاسٹک کی بوتلوں کو الگ کرتی ہیں۔
© UNOPS پاکستان میں ہر سال پانچ کروڑ ٹن سے زیادہ ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں ہر سال تقریباً 2.4 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان: کچرا چننے والے محنت کشوں کو حقوق دلانے کا تربیتی منصوبہ

انسانی حقوق

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) پاکستان میں کچرا چننے والے غیررسمی کارکنوں کے کام کو باضابطہ بنانے میں مدد دے رہا ہے جس سے کوڑا کرکٹ کی ری سائیکلنگ، ماحولیاتی پائیداری اور روزگار کو فروغ ملے گا۔

اس مقصد کے لیے 'تنظیم سازی اور رسم بندی کے ذریعے حقوق و سماجی شمولیت کے فروغ کے اقدام' (پی آر ایس) کے تحت صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسے جاپانی حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔ 

'پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (پی یو ڈبلیو ایف) کے ذیلی ادارے لیبر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (ایل آر ڈی آئی) اور اختر حمید خان فاؤنڈیشن کے اشتراک سے شروع کردہ اس منصوبے کے تحت27 اپریل سے 2 مئی تک صوبائی دارالحکومت لاہور میں تربیت کاروں کے لیے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔

اس ورکشاپ میں 25 افراد نے حصہ لیا جن میں سرکاری اداروں اور آجر و مزدور تنظیموں کے نمائندے اور تکنیکی ماہرین شامل تھے۔ اس اقدام کے ذریعے ملک میں غیر رسمی معیشت سے وابستہ کارکنوں کے لیے شراکتی نمونے کو فروغ دینے کے مواقع اور مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس منصوبے سے متعلق 'آئی ایل او' کی تکنیکی افسر ہی جن آن نے کہا ہے کہ یہ شراکتی نمونہ ان لوگوں کو کوڑا کرکٹ چننے کی باضابطہ خدمات فراہم کرنے والے کارکنوں میں تبدیل کرنے کا موثر راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی بدولت ری سائیکلنگ اور قابل استعمال کچرے کے حصول کی کوششوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور روزگار کی فراہمی کے علاوہ ماحولیاتی پائیداری میں بھی مدد ملتی ہے۔

آمدنی اور حالات کار میں بہتری کا اقدام

پاکستان میں ہر سال پانچ کروڑ ٹن سے زیادہ ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں ہر سال تقریباً 2.4 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ کچرا چننے والے کارکن اس کا بڑا حصہ جمع کرنے، چھانٹنے اور قابل استعمال مواد کو الگ کرنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ ری سائیکلنگ کے پورے عمل میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے جو کچرا ٹھکانے لگانے کی جگہوں سے بھی قابل استعمال اشیا نکالتے ہیں۔اس طرح بلدیاتی اداروں پر کچرے کے بوجھ میں کمی آتی ہے۔ 

یہ شعبہ زیادہ تر خاندانی اور چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے اور معاشرے کے محروم طبقات کے لیے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ مشکل اور غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی قانونی شناخت محدود، آمدنی کم اور سماجی تحفظ و بنیادی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

اجتماعی طور پر شراکتی نظام کے تحت کام کرنے سے کچرا چننے والے کارکن اپنی آواز مضبوط بنا سکتے ہیں، آمدنی اور کام کے حالات بہتر کر سکتے ہیں اور مارکیٹ، سہولیات اور سماجی تحفظ تک بہتر رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

کچرے کی تلفی میں باضابطہ شراکت دار

ورکشاپ میں شریک ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے نمائندے سید ابان نے کہا کہ اس شراکتی نظام کے تحت یہ کارکن متحد ہو کر اپنے کام کو وسعت دے سکتے ہیں اور اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں جو انفرادی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ 

یہ ورکشاپ مقامی تربیت کاروں اور مددگاروں کا ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دینے کی جانب اہم قدم ثابت ہوئی جو پاکستان میں پالیسی سازی اور پروگراموں میں شراکتی نمونوں کو شامل کرنے اور ان پر عملدرآمد میں معاونت فراہم کر سکیں گے۔

اس اقدام کے آئندہ مرحلے میں یہ لوگ اسلام آباد اور ساہیوال میں کوڑا کرکٹ چننے کے کام سے وابستہ غیررسمی کارکنوں کو تربیت دیں گے۔ اس کے ساتھ، قومی اور مقامی سطح کے حکام کی مدد سے ایسے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے جن کے ذریعے ان کارکنوں کو کوڑا کرکٹ اٹھانے اور تلف کرنے کے نظام میں باضابطہ شراکت دار کے طور پر قانونی حیثیت دی جا سکے گی۔