غزہ: جنگ سے بے گھر لوگوں کی خیمہ بستیوں کے درمیان فٹبال ٹورنامنٹ
غزہ کے اسعد العزابی 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ سے پہلے پیشہ ور فٹبالر تھے اور آج بے گھر افراد کے کیمپ میں رہتے ہوئے فٹ بال ہی ان کے لیے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے چند لمحوں کی نجات کا ذریعہ بن گیا ہے۔
جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں جہاں ریت پر دور دور تک خیمے پھیلے ہوئے ہیں اور پانی و خوراک کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی رہتی ہیں وہاں اسعد العزابی ایک ایسے میچ کی تیاری کر رہے ہیں جو ان کی سابقہ زندگی سے بالکل مختلف دنیا میں کھیلا جا رہا ہے۔
العزابی جنگ سے پہلے جنوبی شہر رفح کے التجمع کلب کے لیے کھیلتے تھے۔ اس وقت ان کے پاس کھیل کے معیاری میدان، تربیتی ہال، کوچ اور کھیلوں کے سامان تک ہر سہولت موجود تھی۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ کھیلنے کے لیے جوتے مل جانا بھی خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے۔
وہ کبھی کسی دوست سے جوتے ادھار لیتے ہیں اور کبھی پھٹے ہوئے جوتوں کو ٹیپ لگا کر قابل استعمال بناتے ہیں۔ اس وقت ان کا گھر الرحمہ کیمپ کا ایک خیمہ ہے جہاں رفح سے بے گھر ہونے والے افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس جگہ صاف پانی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ العزابی غزہ میں تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ سرطان میں مبتلا اپنے بیٹے کا علاج کروانے اردن جا چکی ہیں۔
فٹ بال: تفریح اور اظہار کا واحد ذریعہ
روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد کے باوجود العزابی اپنے کھلاڑیوں کو قریبی شیخ العید کیمپ کے خلاف میچ کی تیاری کرا رہے ہیں۔ وہ ریت پر خاکے بنا کر اپنی ٹیم کو کھیل کی حکمت عملی سمجھاتے ہیں۔ اس کے بعد پوری ٹیم پیدل چل کر اس میدان کی جانب روانہ ہوتی ہے جو بے گھر افراد کے خیموں کے درمیان قائم کیا گیا ہے۔
یہ مقابلہ محض کھیل نہیں بلکہ کیمپوں کی سخت اور کٹھن زندگی سے چند لمحوں کی نجات محسوس ہوتا ہے۔
ریتلے میدان کے گرد بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے تالیاں بجائی جا رہی ہیں۔ ان میں سے کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو چند گھنٹے پہلے ہی خوراک، پانی یا موبائل فون کی بیٹری چارج کروانے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے تھے۔
اس میچ کے ریفری علاء ابو طٰہ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن سے وابستہ ہیں جو خود بھی رفح سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فٹ بال غزہ کے لوگوں کے لیے اب تفریح اور اظہار کا واحد ذریعہ ہے۔
جنگ کے نتیجے میں غزہ میں کھیلوں کا شعبہ بھی شدید تباہی کا شکار ہوا ہے۔ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق، فٹ بال کے بہت سے کھلاڑی جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کھیلوں کی سیکڑوں سہولتیں بشمول فٹ بال کے میدان، کلبوں کے دفاتر اور تربیتی مراکز تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔
جس میدان میں یہ میچ ہو رہا ہے وہ دراصل باسکٹ بال اور والی بال کے لیے بنایا گیا تھا لیکن یہاں کے لوگ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی سب کچھ پیدا کر لیتے ہیں۔
محبت، شناخت اور ماضی سے ربط
بالآخر میچ شروع ہوتا ہے۔ چند درجن تماشائیوں کے سامنے اسعد العزابی وہی جوتے پہن کر میدان میں اترتے ہیں جنہیں انہوں نے پلاسٹک کی ٹیپ سے مرمت کیا ہے۔
میچ کے اختتام پر الرحمہ کیمپ کی ٹیم شیخ العید کیمپ کو 1-2 سے شکست دے دیتی ہے۔ آخری سیٹی بجتے ہی درجنوں نوجوان اسعد اور ان کے ساتھیوں کو کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ بچے اور نوجوان خیموں کے درمیان جشن منانے لگتے ہیں۔
اس طرح، چند لمحوں کے لیے بے گھری، جنگ اور محرومی کا احساس پس منظر میں چلا جاتا ہے اور فٹ بال خوشی اور امید کا ایک نادر ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے۔
اسعد کہتے ہیں کہ ان مشکل حالات میں گھر سے نکل کر ایسا میچ کھیل لینا بہت بڑی بات ہے۔ وہ اپنے کیمپ کو مبارکباد دیتے اور اس چیمپئن شپ کو اپنی اہلیہ اور بیٹے کے نام کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف ایک کھیل یا ٹرافی کی جیت نہیں بلکہ یہ اپنے دور بیٹھے اپنے خاندان کے لیے محبت کا پیغام، اپنی شناخت کو زندہ رکھنے کی کوشش اور ماضی سے جڑی آخری ڈور کو تھامے رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ اور بے گھری جیسے انتہائی کٹھن حالات میں بھی کھیل انسانوں کو امید، حوصلہ اور زندگی سے جڑے رہنے کا سبب فراہم کر سکتے ہیں۔