ایبولا کے خلاف کانگو کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ڈبلیو ایچ او چیف
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ملک کے کئی صوبوں اور ہمسایہ ملک یوگنڈا تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بیماری پر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد اور تعاون فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کانگو کے مشرقی صوبہ ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کی اس قسم (بنڈی بگیو) کے لیے فی الوقت نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا موثر علاج دستیاب ہے۔
صوبہ ایتوری اس وبا کا مرکز ہے جہاں ڈائریکٹر جنرل نے طبی سہولیات کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ 'ڈبلیو ایچ او' کانگو کے عوام کے ساتھ ہے۔ مقامی لوگ اپنے مسائل اور ان کے حل کو بہتر جانتے ہیں۔ ادارے کا کام یہ ہے کہ ان کے ساتھ مل کر وبا سے نمٹنے کے اقدامات کیے جائیں۔
27 مئی تک کانگو میں ایبولا وائرس کے 906 مشتبہ مریض سامنے آئے تھے جن میں 223 مشتبہ اموات کی اطلاعات ہیں۔ 29 مئی تک کانگو اور یوگنڈا میں مجموعی طور پر 134 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی جن میں سے 18 کا انتقال ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں، کانگو میں ایبولا کے مشتبہ مریضوں کا علاج کرنے والا ایک امریکی شہری بھی وائرس سے مبینہ طور پر متاثر ہوا جو اس وقت جرمنی میں زیرعلاج ہے۔
فوری علاج کی اہمیت
'بنڈی بگیو' وائرس پہلی مرتبہ 2007 میں یوگنڈا میں دریافت ہوا تھا۔ اگرچہ اس وقت وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں تاہم ڈائریکٹر جنرل نے زور دیا کہ بروقت طبی نگہداشت سے مریض صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ جس قدر جلد علاج حاصل کیا جائے اسی قدر بہتر نتیجہ سامنے آتا ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' اور شراکت دار اس وائرس کے خلاف ویکسین اور علاج کی تیاری کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے اس دورے میں سرکاری حکام، مقامی رہنماؤں، امدادی اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں اس وبا کا خاتمہ مقامی لوگوں کی ذمہ داری اور قیادت سے ہی ممکن ہو گا۔ اس دورے میں وہ خواتین، مذہبی رہنماؤں، کاروباری نمائندوں اور نوجوانوں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اعتماد سازی کو فروغ دیا جا سکے۔
طبی خدمات کا تحفظ
'ڈبلیو ایچ او' کانگو میں ایبولا کی تشخیص کے لیے دو ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کٹس فراہم کر چکا ہے اور اہم سفری مراکز پر جانچ پڑتال کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ ادارہ ایبولا کے علاج کے مراکز میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بھی بہتر بنا رہا ہے تاکہ انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات مضبوط بنائے جا سکیں۔
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کے مطابق، طبی مراکز اپنے عملے، سازوسامان اور سہولیات کا بڑا حصہ ایبولا سے نمٹنے کے لیے مختص کر رہے ہیں جس کے باعث ہنگامی سیزیرین آپریشن، نومولود بچوں کی نگہداشت، خاندانی منصوبہ بندی اور بعد از زچگی خدمات تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔ ان خدمات کو جاری رکھنے کے لیے 'یو این ایف پی اے' ضروری خدمات اور سازوسامان فراہم کر رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگو اس سے پہلے 16 مرتبہ ایبولا کی وباؤں کا سامنا کر چکا ہے اور ہر مرتبہ کامیابی سے ان کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ ملک کے لوگ اس آزمائش میں تنہا نہیں ہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او' ان کے ساتھ ہے اور باہم مل کر اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔