نیلے ہیلمٹ والوں کو خراج تحسین اور امن پر خرچ کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ادارے کے امن کاروں (بلیو ہیلمٹس) کو رکن ممالک کی جانب سے مضبوط سیاسی حمایت اور قابل بھروسہ مالی معاونت کی ضرورت ہے جو دنیا بھر میں خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں جبکہ ان کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
آج منائے جا رہے اقوام متحدہ کے امن کاروں کے عالمی دن پر سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امن مشن تنازعات پر قابو پانے، شہریوں کے تحفظ اور مسائل کے سیاسی حل کی حمایت کے لیے ایک موثر اور کم خرچ ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے 1948 سے اب تک فرائض کی انجام دہی میں ہلاک ہونے والے تقریباً 4,500 امن کاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جن میں ایک سال کے دوران جان دینے والے 59 اہلکار بھی شامل ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ امن کاروں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ علاوہ ازیں، موجودہ حالات میں وسائل کی کمی ایسے وقت امن کارروائیوں کی تاثیر کو متاثر کر سکتی ہے جب دنیا بھر میں تنازعات طویل اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
پائیدار امن پر سرمایہ کاری
اس وقت دنیا میں اقوام متحدہ کے 11 امن مشن جاری ہیں جن میں 50 ہزار سے زیادہ فوجی، غیرفوجی اور پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور شہریوں کا تحفظ شامل ہے۔
امن کار عموماً ایسے تنازعات میں کام کر رہے ہیں جو روز بروز زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جبکہ ان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ جیسے نئے خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے شعبہ امن کاری کے سربراہ ژاں پیئر لاکوا نے کہا ہے کہ امن کار دنیا کے مشکل ترین علاقوں میں شہریوں کا تحفظ کر رہے ہیں، تشدد کو پھیلنے سے روک رہے ہیں اور امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی لیے، امن مشن پر سرمایہ کاری دراصل استحکام اور پائیدار امن پر سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
غیرمعمولی بہادری کا اعتراف
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش 5 جون کو دو امن کاروں کو ان کی غیرمعمولی بہادری کے اعتراف میں اقوم متحدہ کا اعلیٰ ترین امن اعزاز 'کیپٹن مبائے دیاگنے میڈل' دیں گے۔ یہ اعزاز پانے والوں میں یوکرین کے سرگئی پریخودکو اور یوروگوئے کے سارجنٹ میتیاس ریئز شامل ہیں۔
سرگئی پریخودکو جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این ایم آئی ایس ایس) کے تحت ہیلی کاپٹر عملے کے نجی کنٹریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مارچ 2025 میں انہوں نے ایک کم تجربہ کار ساتھی کی جگہ رضاکارانہ طور پر ایک خطرناک فضائی مشن میں حصہ لیا جس کا مقصد ریاست بالائی نیل میں محصور فوجیوں کو نکالنا تھا۔
مشن کو محفوظ راستے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کر دی گئی جس کے نتیجے میں سرگئی پریخودکو ہلاک اور عملے کے دو ارکان زخمی ہو گئے۔ ان کی بہادری اور قربانی نے شدید تشدد کے دوران کئی جانیں بچانے میں مدد دی۔
میتیاس ریئز 2025 میں جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے استحکامی مشن (مونوسکو) کے تحت گوما میں تعینات تھے جہاں کانگو کی فوج اور ایم 23 مسلح گروہ کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ مشن کے مرکز پر داخلی راستے کی حفاظت کے دوران انہوں نے شدید فائرنگ کے باوجود اپنی جان خطرے میں ڈال کر کانگو کے 12 زخمی فوجیوں کی جان بچائی جو اس مرکز میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
صنفی مساوات کے لیے خدمات
انڈیا سے تعلق رکھنے والی میجر ابھلاشا بارک کو صنفی مساوات کے لیے نمایاں کام کرنے والی سال کی بہترین امن کار قرار دیا گیا ہے۔ وہ جنوبی لبنان میں انڈیا کی بٹالین میں انگیجمنٹ ٹیم کمانڈر اور جینڈر فوکل پوائنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے 5 ہزار سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو فنی تربیت، تعلیم اور صحت کے پروگراموں کے ذریعے بااختیار بنانے اور جنگ کے بعد بحالی میں مدد فراہم کی۔ میجر بارک نے لبنان جینڈر انیشی ایٹو کے نام سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا جس کے ذریعے خواتین اور بچے خفیہ طور پر صنفی تشدد کی شکایات درج کرا سکتے ہیں، ہیلپ لائن پر خدمات حاصل کر سکتے ہیں اور تعلیمی و حفاظتی وسائل تک رسائی پا سکتے ہیں۔
بہترین پولیس افسر
جرمنی کی انسپکٹر سٹیفنی کونگز کو سال کی بہترین خاتون پولیس افسر کا اعزاز دیا گیا ہے۔ انہوں نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں پیٹرول ٹیم لیڈر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے منظم گشتی نظام متعارف کرایا اور امن کاروں کے ساتھ رابطہ کاری کو مزید موثر بنایا۔ ان کی قیادت نے بحران کے دوران بروقت انتباہی نظام اور مشن کی فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔