انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خطرناک حد تک بے قابو ہوتی یوکرین جنگ کو اب رکنا چاہیے، یو این چیف

ایک خاتون سرخ ٹوپی پہنے ہوئے حملے کے بعد کراماتورسک، یوکرین میں ایک جلتی ہوئی گاڑی اور تباہ شدہ عمارتوں کے پاس سے گزری۔
© UNOCHA جنگ سے تباہ حال یوکرین کا ایک علاقہ۔

خطرناک حد تک بے قابو ہوتی یوکرین جنگ کو اب رکنا چاہیے، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے یوکرین کی جنگ میں خطرناک شدت آنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر حملوں کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور موت و تباہی کے اس سلسلے کو اب رک جانا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے یوکرین اور روس میں شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے حملوں کے تناظر میں بلائے گے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 اور 24 مئی کو روس کے حملوں اور آئندہ مزید حملوں کے امکانات نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال نہایت نازک ہے۔ موجودہ راستہ قابل عمل نہیں اور اس رخ کو بدلنا ہو گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ میں شدت آنے سے حالات بے قابو ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی بھی غلط اندازے یا غیر متوقع نتائج کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس وقت کشیدگی میں فوری اور مستقل کمی لانے کی ضرورت ہے اور مکمل و غیر مشروط جنگ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انتخاب واضح ہے، ذمہ داری واضح ہے اور قیام امن میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے یوکرین میں امن اور سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کیا۔
UN Photo/Manuel Elías سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

بڑے پیمانے پر حملے

روس نے یوکرین پر حالیہ حملوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً 90 میزائل اور 600 ڈرون استعمال کیے جن کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ سب سے زیادہ نقصان دارالحکومت کیئو میں ہوا۔

حملوں کے نتیجے میں سفارتی مراکز اور اقوام متحدہ کے اداروں پر مشتمل عمارت کو بھی نقصان ہوا، تاہم کسی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

شہریوں کی بڑھتی ہلاکتیں

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق، 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران یوکرین میں ہلاک و زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ جنوری سے اپریل تک 815 شہری ہلاک اور 4,174 زخمی ہوئے۔

فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز سے اب تک یوکرین میں 15 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 800 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ نے تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر جاری کیے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کا ایک ملازم ایک تباہ شدہ گودام کی عمارت کو دیکھ رہا ہے جس سے دھواں اڑ رہا ہے، قریب میں ایک سرخ فائر ٹرک اور ایک پیلا لوڈر ہے۔
© UNHCR/Filip Loncar یوکرین کے شہر نیپرو میں یو این ایچ سی آر کا ایک گودام بھی حال ہی میں حملوں کی زد میں آیا تھا۔

مذاکرات بحالی کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے فریقین سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔ انہوں نے انتہائی ضبط و تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور اس انسانی المیے کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر کیئو میں ایک رہائشی عمارت پر روس کے حملے میں مبینہ طور پر 24 شہری ہلاک ہوئے۔ انہوں نے روس کے زیر قبضہ شہر سٹاروبلسک میں ایک تعلیمی ادارے پر یوکرینی حملے کا ذکر بھی کیا جس کے بارے میں روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں 21 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے۔

'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق، دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین میں عام شہری اور طلبہ بھی شامل تھے۔