انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں درجہ حرارت ریکارڈ اونچی سطح پر رہنے کی پیشنگوئی

ایک سنہری غروب آفتاب کے دوران کوکاٹا، بنگلہ دیش کے ساحل پر لہروں کا لہراؤ ہوتا ہے، سورج افق پر کم ہوتا ہے اور دور سے کشتیاں نظر آتی ہیں۔
© WMO/Ahnaf Ibne Nasir بنگلہ دیش کے کوکاٹا ساحل پر سورج غروب ہو رہا ہے۔

دنیا میں درجہ حرارت ریکارڈ اونچی سطح پر رہنے کی پیشنگوئی

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور یقینی ہے کہ آئندہ پانچ برس میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس سے بھی زیادہ رہے گا۔

عالمی حدت پر برطانیہ کے محکمہ موسمیات کی تیار کردہ اور عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا 86 فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال ایسا ہو گا جو 2024 کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے تاریخ کا گرم ترین سال بن جائے گا۔

Tweet URL

91 فیصد امکان ہے کہ آئندہ پانچ برس میں کم از کم ایک سال کے دوران کرہ ارض کا اوسط درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں عارضی طور پر 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے گا۔

موسمیاتی اہداف قابل حصول

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ درجۂ حرارت کا عارضی طور پر 1.5 ڈگری سے تجاوز کرنا تشویش ناک ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیرس معاہدے کے طویل مدتی اہداف اب ناقابل حصول ہو چکے ہیں۔ دراصل اس معاہدے کے تحت کسی ایک سال کی حدت کے بجائے کئی دہائیوں پر محیط اوسط درجہ حرارت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

تاہم ان پیش گوئیوں سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حدت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شدید گرمی کی لہریں پہلے سے کہیں زیادہ مرتبہ سامنے آ رہی ہیں۔ توقع ہے کہ 2026 سے 2030 کے دوران زمین کا سالانہ درجہ حرارت 1850 تا 1900 کی اوسط کے مقابلے میں 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔ 75 فیصد امکان ہے کہ اس پانچ سالہ عرصہ کا اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف لیون ہرمینسن نے کہا ہے کہ رواں سال کے اختتام پر ایل نینو کے دوبارہ ظاہر ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جس سے یہ امکان بڑھ گیا ہے 2027 بھی ریکارڈ توڑ گرم سال ہو گا۔

قطب شمالی میں بڑھتی گرمی

آئندہ پانچ موسم سرما میں قطب شمالی کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی اوسط حدت کے مقابلے میں 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو اسی عرصہ میں عالمگیر اوسط اضافے سے ساڑھے تین گنا زیادہ ہے۔

سائنس دانوں نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ قطب شمالی میں سمندری برف مسلسل کم ہوتی رہے گی خصوصاً بحیرہ بارینٹس، بحیرہ بیرنگ اور بحیرہ اوخوتسک میں برف کی سطح میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔

سمندری برف کا پگھلنا اس لیے بھی تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے سورج کی روشنی کو واپس منعکس کرنے کے لیے قطب شمالی کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی حدت مزید بڑھتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس سے ماحولیاتی نظام، موسمی رجحانات اور قطبی علاقوں میں رہنے والوں کے ذرائع معاش بھی متاثر ہوتے ہیں۔

بارشوں کے انداز میں تبدیلی

رپورٹ کے مطابق، 2026 سے 2030 کے درمیان افریقی خطے ساہل، شمالی یورپ، الاسکا اور سائبیریا کے بعض حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے جبکہ برازیل میں ایمازون اور نیم گرم خطوں کے بعض حصوں میں خشک سالی بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شمالی عرض البلد کے بلند علاقوں میں آئندہ موسم سرما کے دوران زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پیش گوئیوں کا مقصد حکومتوں، علاقائی موسمیاتی مراکز اور ملکی موسمیاتی اداروں کو ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے جو اب مستقبل کی بات نہیں رہے بلکہ قریب مدتی طور پر عالمی موسمی منظرنامے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔