لبنان: اسرائیلی بمباری میں شدت، ہزاروں مزید افراد نقل مکانی پر مجبور
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ لبنان میں 10 لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ گزشتہ رات اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت کی اطلاعات کے بعد مزید ہزاروں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
دارالحکومت بیروت میں کئی خاندانوں کو گاڑیوں میں رات گزارتے دیکھا گیا۔ گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران درجنوں خاندانوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر پناہ لی ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے آج پہلی مرتبہ دریائے لیطانی کے شمال میں واقع شہر نبطیہ سے لوگوں کو انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔ وادی بقہ کے قصبےمشغارہ میں بھی یہی احکامات دیے گئے ہیں جہاں گزشتہ رات اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 11 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طبی سہولیات پر حملے
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، 21 سے 24 مئی کے درمیان لبنان میں طبی سہولیات پر نو حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں آٹھ کارکن ہلاک اور 45 زخمی ہوئے۔ 23 مئی کو جنوبی لبنان کے حرم ہسپتال کے قریب متعدد فضائی حملوں کے باعث 25 طبی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس سے قبل جنوبی لبنان اور نبطیہ کے دو ہسپتال بھی فضائی حملوں میں نقصان کا شکار ہوئے تھے۔
ایک اسرائیلی فضائی حملے میں نبطیہ میں واقع شہری دفاع کا مرکز تباہ ہو گیا جس میں آگ بجھانے کی سہولت اور امدادی سازوسامان کے علاوہ بھاری مشینری کا نقصان ہوا اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کی صلاحیت متاثر ہوئی۔
فرحان حق نے کہا ہے کہ طبی عملے اور صحت کی سہولیات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں اور صحت کے شعبے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزی
لبنان میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے بتایا ہے کہ جمعے کے بعد اسرائیل کی فوج اور حزب اللہ سمیت لبنانی مسلح گروہوں کے مابین جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یونیفیل کے مطابق، گزشتہ روز لبنانی فضائی حدود کی 91 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جو 17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ادارے نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کے 399 واقعات اور حزب اللہ کی جانب سے مارٹر گولوں کے 11 حملوں کی اطلاع دی ہے۔