انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: یونیسف کی مدد سے نظام صحت کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کا منصوبہ

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں شہید بینظیر بھٹو ہسپتال میں صحت کے کارکنوں نے ایک چھوٹے بچے کے درمیان بازو کے گھیرے (ایم یو اے سی) کی پیمائش کی۔
©UNICEF /Shahzaib. A پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شہید بینظیر بھٹو ہسپتال میں ایک بچے کی نشوونما کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

پاکستان: یونیسف کی مدد سے نظام صحت کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کا منصوبہ

صحت

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی مدد سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مریضوں کے تازہ ترین طبی ریکارڈ کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے صحت کی خدمات اور بنیادی طبی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سافٹ ویئر 2(ڈی ایچ آئی ایس 2) نامی اس نظام کے نفاذ سے پہلے صوبے میں طبی معلومات کے لیے کاغذی ریکارڈ اور پرانے'ڈی ایچ آئی ایس' پلیٹ فارم سے کام لیا جاتا تھا۔ اگرچہ اس نظام میں ڈیجیٹل اندراج کی سہولت موجود تھی مگر اس میں کئی خامیاں تھیں۔ اسے مسلسل انٹرنیٹ کی ضرورت رہتی تھی اور ایک مرتبہ معلومات درج ہو جانے کے بعد ان میں ترمیم ممکن نہیں تھی۔

دسمبر 2023 میں متعارف کرائے گئے نئے نظام کو گزشتہ سال تک صوبے کے تمام اضلاع میں توسیع دی جا چکی ہے۔ اب طبی عملہ مریضوں کا ریکارڈ مراکز صحت میں ہی درج کرتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اب یہ معلومات روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل صورت میں اپ لوڈ ہو جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، 'ڈی ایچ آئی ایس' کی موبائل ایپ کے ذریعے یہ کام انٹرنیٹ کے بغیر بھی ممکن ہے۔ 

اس تبدیلی کو موثر بنانے کے لیے یونیسف نے آئی ٹی آلات فراہم کیے اور صوبے بھر کے طبی مراکز میں 4,500 کارکنوں کو تربیت دی ہے۔

طبی معلومات کا فوری حصول

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کے دفتر میں سید مظفر علی ایک بڑی سکرین پر ڈیش بورڈ کا جائزہ لے رہے ہیں جو ان کے لیپ ٹاپ سے منسلک ہے۔ 'ڈی ایچ آئی ایس 2' پر کام کرنے والے سینئر سافٹ ویئر انجینئر کی حیثیت سے وہ اب بلوچستان کے ہر ضلع میں موجود طبی مراکز سے فوری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ سہولت ایک بڑی تبدیلی ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں مریضوں کی صورتحال کو سمجھنے میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔ یہ عمل سست رو تھا اور اس سے ضلعی طبی ٹیموں پر اضافی بوجھ آتا تھا اور ضروری اقدامات میں تاخیر ہوتی تھی۔

کوئٹہ کا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ہسپتال ان پہلے اداروں میں شامل ہے جہاں یہ نظام مکمل طور پر نافذ کیا گیا۔ یہاں ڈیٹا انٹری آپریٹر اب مریضوں کے طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرتے اور اس کی بروقت دستیابی یقینی بناتے ہیں۔ 

ہسپتال میں اس کام پر مامور سمیرا بتاتی ہیں کہ پہلے تمام معلومات مہینے کے آخر میں درج کی جاتی تھیں جس کے باعث پیش رفت پر نظر رکھنا اور غلطیوں کی اصلاح کرنا مشکل ہوتا تھا۔ لیکن اب ریکارڈ کی نگرانی اور تصدیق آسان ہو گئی ہے۔

ایک بھوری حجاب اور نیلے رنگ کے چہرے کے ماسک پہنے ہوئی عورت دفتر میں ایک میز پر کی بورڈ پر ٹائپ کر رہی ہے۔
©UNICEF / Shahzaib. A ایک ڈیٹا انٹری آپریٹر مریضوں کے کوائف اور معلومات کو نظام صحت کے پورٹل پر منتقل کر رہی ہیں۔

ممکنہ وباؤں کی موثر نگرانی

اس نظام کے ذریعے معلومات اپ لوڈ ہونے کے بعد ضلعی اور صوبائی سطح پر ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ضلعی دفاتر معلومات کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ صوبائی ڈائریکٹوریٹ تمام اضلاع کےطبی رجحانات پر نظر رکھتا ہے۔

یہ تبدیلی پہلے ہی مثبت نتائج دے رہی ہے اور بہتر منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ طبی رجحانات کا تجزیہ کر کے طبی حکام ممکنہ وباؤں کا بروقت اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں کسی بیماری کے مریض بڑھ جائیں تو وہاں فوری طور پر اضافی ادویات اور وسائل بھیجے جا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جب ایک دور افتادہ دیہی مرکز صحت میں دو ہفتوں تک کوئی پیدائش ریکارڈ نہ ہوئی تو اس معاملے کی تحقیقات کی گئیں۔ معلوم ہوا کہ خراب آلات کی وجہ سے لیبر روم فعال نہیں تھا، جس کے بعد فوری اصلاحی اقدامات کیے گئے۔

بہتر علاج تک رسائی

آج بلوچستان بھر میں یہ نظام 1,650 سے زیادہ طبی مراکز میں بہتر خدمات کی فراہمی میں مدد دے رہا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا مطلب بروقت اور بہتر علاج معالجہ تک رسائی ہے، چاہے وہ حفاظتی ٹیکے ہوں، بیماریوں کا علاج ہو یا غذائیت سے متعلق ضروری خدمات کی فراہمی ہو۔ صحت کا نظام اب زیادہ تیزی سے ردعمل دینے، موثر منصوبہ بندی اور اس بات کو یقینی بنانے کے قابل ہو گیا ہے کہ کوئی بچہ نظر انداز نہ ہونے پائے۔

پاکستان میں یونیسف کے طبی ماہر ڈاکٹر امیر اکرم کہتے ہیں کہ صوبے میں اس نظام کا نفاذ ڈیجیٹل طبی انتظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ شراکت داروں کے موثر تعاون کی بدولت اب صوبے کو طبی خدمات کی فراہمی پر بروقت نظر رکھنے کی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے فوری فیصلے ممکن ہوتے ہیں، جوابدہی مضبوط ہوتی ہے اور بالآخر بچوں اور خاندانوں کے لیے بہتر طبی نتائج سامنے آتے ہیں۔

اگرچہ فی الوقت 'ڈی ایچ آئی ایس 2' بنیادی اور ثانوی طبی مراکز کی معلومات جمع کر رہا ہے تاہم اس کے دائرہ کار کو بڑے ہسپتالوں تک بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں جس سے نظام مزید مضبوط ہو گا۔

یہ فیچر پہلے انگریزی میں یہاں شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ سنبل فاطمہ نے کیا ہے۔